ہائی یانگ، شان ڈونگ (شِنہوا) چین کے مشرقی سمندری علاقے سے 5 اگست کو مصنوعی ذہانت سے لیس دو ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹس کے ساتھ سمارٹ ڈریگن-3 (ایس ڈی-3) کیریئر راکٹ کی کامیاب لانچنگ سمندری خلائی آپریشنز میں چین کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے، جس سے چین کی تجارتی خلائی صنعت سمندر سے راکٹوں کی لانچنگ اور واپسی کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے۔
یہ مشن چین کے مشرقی صوبے شان ڈونگ میں واقع ہائی یانگ اورینٹل سپیس پورٹ سے 2019 کے بعد سمندر سے راکٹ لانچ کرنے کا 27 واں مشن تھا۔ یہ لانچ دو اہم واقعات کے فوراً بعد ہوئی ہے، جن میں 10 جولائی کو چین کے جنوبی جزیرہ صوبے ہائی نان میں سمندر پر قائم جال کے نظام سے راکٹ کے پہلے مرحلے کو پہلی بار کامیابی سے واپس حاصل کرنا اور 22 جولائی کو شنگھائی کے قریب مشرقی بحیرہ چین سے پہلی تجارتی سمندری لانچ شامل ہیں۔
بحیرہ زرد سے ایس ڈی-3 کی لانچ عوام کے لئے شاید محض ایک اور سمندری لانچ محسوس ہوئی ہو، تاہم صنعت سے وابستہ ماہرین اسے ایک خاموش سنگ میل قرار دیتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ یہ غیر معمولی ہے، بلکہ اس لئے کہ اب یہ غیر معمولی رہی ہی نہیں۔
ایس ڈی-3 ٹھوس ایندھن سے چلنے والا ایک کیریئر راکٹ ہے جسے تجارتی خلائی مارکیٹ کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ 500 کلومیٹر بلند سورج سے ہم آہنگ مدار میں اس راکٹ کی پے لوڈ صلاحیت 1.5 ٹن ہے۔ راکٹ کو ہائی یانگ اورینٹل سپیس پورٹ کی فیکٹری میں اسمبل کیا گیا، جو چین کی واحد تجارتی آف شور لانچ ہوم پورٹ ہے۔
لانچ سروس فراہم کرنے والے اورینٹل میری ٹائم سپیس پورٹ (شان ڈونگ) ڈیویلپمنٹ گروپ کے چیف انجینئر ٹینگ یاؤ نے کہا کہ ہائی یانگ میں حتمی اسمبلنگ سے لے کر راکٹ کو باہر منتقل کرنے اور پھر لانچنگ کے لئے بحری جہاز میں نصب کرنے تک صنعتی سلسلہ اب مکمل طور پر مستحکم ہو چکا ہے۔
اگست تک ہائی یانگ اورینٹل سپیس پورٹ سمندر سے راکٹ لانچ کرنے کے 27 مشنوں میں معاونت کر چکا ہے، جن کے ذریعے مجموعی طور پر 166 سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مداروں میں پہنچایا گیا اور کامیابی کی شرح 100 فیصد رہی۔


