بجلی کی بار بار بندش کے باعث افغان باشندوں کی بڑی تعداد متبادل ذرائع سے بجلی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کابل کی ایک منڈی میں حالیہ دنوں شمسی توانائی کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی جاری کردہ ایک رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کی تقریباً 40 فیصد آبادی قومی بجلی کے نظام سے منسلک ہے جبکہ ملک میں پیدا ہونے والی بجلی مجموعی ضرورت کا ایک چوتھائی سے بھی کم حصہ فراہم کرتی ہے۔
تاجروں کے مطابق شمسی توانائی کے آلات کی طلب عموماً مارچ سے جولائی کے درمیان اس وقت عروج پر پہنچ جاتی ہے جب افغانستان میں زیادہ شمسی آلات درآمد کئے جاتے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (دری): حاجی قاری، فروخت کنندہ، شمسی توانائی آلات
’’اس موسم میں شمسی توانائی کی مصنوعات سے بھرے سیکڑوں کنٹینر افغانستان پہنچتے ہیں۔ 600 واٹ اور 700 واٹ کے نظام سب سے زیادہ مقبول ہیں کیونکہ یہ بہت سے خاندانوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔‘‘
کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ فروخت ہونے والی شمسی توانائی کی مصنوعات چین سے درآمد کی جاتی ہیں۔
منڈی میں مختلف سائز کے شمسی پینلز کے ساتھ بیٹریاں اور انورٹرز بھی فروخت کئے جا رہے ہیں۔ اِن نظاموں کے ذریعے گھروں اور کاروباری مراکز کو متبادل بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (دری): نصرت اللہ محمد خیل، خریدار، شمسی پینلز
’’سردیوں میں بجلی کا بند رہنا معمول کی بات ہے۔ گرمیوں کے دوران بھی بجلی کی فراہمی اکثر ہماری روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے گھر میں شمسی توانائی کا نظام نصب کیا۔‘‘
کابل کے اس رہائشی نے بتایا کہ چین میں تیار کردہ یہ نظام قابلِ اعتماد ثابت ہوا ہے اور معیاری بیٹریاں اگر درست طریقے سے استعمال کی جائیں تو کئی برس تک چل سکتی ہیں۔
کابل سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


