نیو یارک (لارڈ میڈیا): دنیا بھر میں سپر بگز کے خلاف اینٹی بائیوٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے امریکی سائنسدانوں نے ایک نیا فارمولا دریافت کیا ہے۔ کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری (سی ایس ایچ ایل) کی تحقیق کے مطابق، انہوں نے ‘پی جی ایچ آئی-4’ نامی مرکب دریافت کیا ہے، جو وینکومائسین کے ساتھ مل کر بیکٹیریا کے خلاف مؤثر ثابت ہوا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق، سپر بگز کی وجہ سے ہر سال ہزاروں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں کیونکہ روایتی اینٹی بائیوٹکس ان پر اثر نہیں کرتیں۔ اس نئی تحقیق سے امید کی جا رہی ہے کہ موجودہ اینٹی بائیوٹکس کو دوبارہ طاقتور بنایا جا سکتا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق ‘اینٹی بائیوٹک ایڈجوونٹس’ جراثیم کو براہ راست نہیں مارتے بلکہ اینٹی بائیوٹکس کو اپنا کام مؤثر انداز میں کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ‘پی جی ایچ آئی-4’ بیکٹیریا کی حفاظتی دیوار کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے وینکومائسین دوبارہ مؤثر ہو جاتی ہے۔
کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کے پروفیسر جان موسس نے کہا کہ یہ دریافت بنیادی کیمیائی تحقیق کا نتیجہ ہے اور کیمیائی عمل کی تیاری کے دوران ایسے مادے کی دریافت ممکن ہوئی جو دواؤں کے خلاف مزاحمت میں شامل انزائم کو روکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں تپ دق (ٹی بی) سمیت دیگر خطرناک بیکٹیریا کے علاج کے لیے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کریں تاکہ بیکٹیریا میں مزاحمت پیدا ہونے کے امکانات کم ہوں۔


