نیویارک (شِنہوا) امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (یو ایس ٹی آر) نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ 1974 کے تجارتی قانون کے سیکشن 301 کے تحت 60 معیشتوں سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر جمعہ سے 10 سے 12.5 فیصد تک نئے محصولات عائد کر ےگا۔
یہ نئے تجارتی اقدامات دنیا بھر پر عائد عارضی 10 فیصد محصولات جمعہ کی صبح 12 بج کر ایک منٹ پر ختم ہونے کے بعد نافذ العمل ہو گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے ان کے وسیع تر ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد ان عارضی محصولات کا سہارا لیا تھا۔
یو ایس ٹی آر کی جانب سے جاری ہونےوالے اخباری بیان کے مطابق سیکشن 301 کا استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ ایک زیادہ مضبوط قانونی طریقہ کار اختیار کر رہی ہے جو صدر کو ان ممالک پر درآمدی ٹیکس اور دیگر پابندیاں عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے جن کی تجارتی پالیسیوں کو "غیر منصفانہ، غیر معقول یا امتیازی” قرار دیا جائے۔
یو ایس ٹی آر نے ان نئے محصولات کے جواز میں بین الاقوامی محنت کشوں کے معیار کا حوالہ دیا۔
بیان میں امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ "امریکہ تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کئے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عملدرآمد بھی کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے تجارتی شراکت دار بھی ایسا ہی کریں۔ آج کا اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور تجارت میں بگاڑ پیدا کرنے والے اس عمل کی اصلاح کی جانب پہلا قدم ہے، تاکہ دنیا بھر کے محنت کشوں کی فلاح و بہبود بہتر بنائی جا سکے۔”
یو ایس ٹی آر کے مطابق ان معیشتوں پر 10 فیصد درآمدی ڈیوٹی کی شرح لاگو ہوگی جنہوں نے یا تو جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے، یا باہمی تجارتی معاہدے کے تحت ایسی پابندی پر عملدرآمد کا عہد کیا ہے، یا پھر مخصوص جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد روکنے کے لئے جزوی نظام نافذ کیا ہوا ہے۔
بیان کے مطابق ان معیشتوں میں ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور برطانیہ شامل ہیں۔


