بیجنگ (شِنہوا) چین میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران ملک کی فی کس قابل تصرف آمدنی میں ظاہری شرح کے لحاظ سے گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.2 فیصد اضافہ ہوا۔
چین کے قومی ادارہ شماریات کے بدھ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران چین کی فی کس قابل تصرف آمدنی 22 ہزار 981 یوآن (تقریباً 3 ہزار 384 امریکی ڈالر) رہی۔ قیمتوں کے اثرات کو منہا کرنے کے بعد حقیقی بنیادوں پر یہ آمدنی 4.2 فیصد بڑھی۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہی باشندوں کی آمدنی میں اضافہ شہری باشندوں کے مقابلے میں زیادہ رہا۔ پہلی ششماہی کے دوران شہری باشندوں کی فی کس قابل تصرف آمدنی 30 ہزار 126 یوآن رہی، جو 4.4 فیصد ظاہری اور حقیقی بنیاد پر 3.4 فیصد اضافہ ہے۔ دیہی باشندوں کی فی کس قابل تصرف آمدنی 12 ہزار 699 یوآن رہی، جس میں ظاہری شرح کے لحاظ سے 6.4 فیصد جبکہ حقیقی بنیاد پر 5.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی عرصے کے دوران چین میں فی کس اجرتی آمدنی، خالص کاروباری آمدنی، خالص پراپرٹی انکم اور خالص منتقلی آمدنی میں بالترتیب 5.3 فیصد، 6.5 فیصد، 1.1 فیصد اور 5.8 فیصد ظاہری اضافہ ہوا۔
بدھ کو جاری ہونے والے اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی مجموعی قومی پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت 4.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔


