بیجنگ(شِنہوا)صوبہ پنجاب کے تاریخی اور معروف شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور اسکالر ملک رؤف اس وقت چین کی معروف چھنگ ہوا یونیورسٹی کی فیوچر لیب میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ وہ ان پاکستانی طلبا میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور علمی صلاحیتوں کے بل بوتے پر عالمی سطح پر نہ صرف اپنی پہچان بنائی بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کیا ہے۔
ملک رؤف کی تحقیق کا موضوع جدید اور ماحول دوست تعمیراتی مواد بالخصوص جیوپولیمر کنکریٹ کی تیاری اور اس کے عملی استعمال پر مشتمل ہے۔ وہ ایسے مضبوط، پائیدار اور کم لاگت مواد کی تیاری پر کام کر رہے ہیں جو نہ صرف روایتی سیمنٹ کا متبادل بن سکے بلکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو نمایاں حد تک کم کر کے عالمی سطح پر درپیش ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے۔
ماسٹرز ڈگری کے دوران ملک رؤف نے سلیکون ربڑ میں سیرامک خصوصیات شامل کر کے اس کی حرارتی اور مکینیکل کارکردگی کو بہتر بنانے پر کام کیا۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ ملک رؤف نے عملی میدان میں بھی خاطر خواہ تجربہ حاصل کیا۔ انہوں نے شنگھائی کی ایک معروف ماحولیاتی انجینئرنگ کمپنی میں کام کرتے ہوئے صنعتی فضلہ پر مشتمل پانی کی صفائی، پراسیس ڈیزائن اور تحقیق و ترقی کے مختلف منصوبوں میں حصہ لیا۔ اس تجربے نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ کس طرح سائنسی تحقیق کو عملی صنعت میں استعمال کر کے ماحولیاتی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ چین میں تعلیم اور صنعت کے درمیان مضبوط روابط ہی دراصل اس کی تیز رفتار ترقی کا راز ہیں۔
ملک رؤف کے مطابق چین نے تعلیم، تحقیق، صنعت اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان ایک ایسا مربوط نظام قائم کیا ہے جس نے ملک کو عالمی سطح پر ایک بڑی معاشی اور سائنسی طاقت بنا دیا ہے۔ خاص طور پر انفراسٹرکچر، ماحولیاتی تحفظ، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں چین کی کامیابیاں دنیا کے لیے ایک مثال ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی ترقی کا راز صرف وسائل میں نہیں بلکہ بہتر منصوبہ بندی، مستقل مزاجی اور اجتماعی وژن میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے بتا یا کہ چینی تعلیمی ادارے طلبا کو صرف کتابی علم نہیں دیتے بلکہ انہیں عملی زندگی، قیادت اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں سے بھی آراستہ کرتے ہیں۔
اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کے تناظر میں ملک رؤف پاکستان کے لیے بھی ایک واضح اور مثبت وژن رکھتے ہیں۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس وقت پائیدار تعمیرات، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی جیوپولیمر تحقیق کو پاکستان میں متعارف کروا تے ہوئے سستے اور ماحول دوست تعمیراتی مواد کی تیاری میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں جس سے نہ صرف تعمیراتی لاگت کم ہو سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ ملک رؤف صنعتی فضلہ پانی کی صفائی کے جدید طریقوں کو پاکستان میں متعارف کرانے کے خواہاں ہیں تاکہ صنعتی آلودگی کو کم کیا جا سکے اور پانی کے وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان میں بھی چین کی طرز پر یونیورسٹیوں، صنعت اور حکومت کے درمیان مؤثر روابط قائم کیے جائیں تو نہ صرف تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ اس کے عملی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔
ملک رؤف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے تاہم انہیں مناسب مواقع، رہنمائی اور جدید سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یقین ہے کہ اگر تعلیمی اداروں میں تحقیق کو ترجیح دی جائے اور اسے قومی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تو پاکستان بھی ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو سکتا ہے۔


