بیجنگ (شِنہوا) مئی میں چین کی بجلی کی کھپت جو کہ اقتصادی سرگرمیوں کا ایک اہم اشاریہ ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.9 فیصد بڑھ گئی ہے۔
قومی توانائی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ ماہ بجلی کی مجموعی کھپت 867.1 ارب کلو واٹ آور رہی۔
تفصیلی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی صنعت میں بجلی کا استعمال گزشتہ سال کی نسبت 5 فیصد بڑھ کر 12.4 ارب کلو واٹ آور تک پہنچ گیا، جبکہ ثانوی صنعت میں یہ اضافہ 6 فیصد رہا اور کھپت 575.3 ارب کلو واٹ آور تک پہنچ گئی۔
ثانوی صنعت کے اندر صنعتی شعبے کی بجلی کی کھپت 6.2 فیصد بڑھ کر 570.3 ارب کلو واٹ آور ہوگئی، جبکہ ہائی- ٹیک آلات سازی میں بجلی کا استعمال 12.2 فیصد اضافے کے ساتھ 109.1 ارب کلو واٹ آور تک پہنچ گیا۔
تیسرے درجے کی صنعت یعنی سروس سیکٹر کی بجلی کی کھپت 170.4 ارب کلو واٹ آور تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 9.7 فیصد زیادہ ہے۔ چارجنگ اور بیٹری تبدیل کرنے کی خدمات کے شعبے اور انٹرنیٹ ڈیٹا سروسز میں بجلی کی کھپت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں بجلی کا استعمال بالترتیب 59.9 فیصد اور 45.4 فیصد بڑھا۔
گھریلو صارفین کی بجلی کی کھپت 7.5 فیصد بڑھ کر 109 ارب کلو واٹ آور رہی۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کے پہلے 5 ماہ میں چین کی مجموعی بجلی کی کھپت 4,201.8 ارب کلو واٹ آور رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.7 فیصد زیادہ ہے۔


