ہومانٹرنیشنلٹرمپ کا روسی تیل پر پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان

ٹرمپ کا روسی تیل پر پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان

ایویان،فرانس (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں منعقد ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی روسی تیل کی ترسیل پر پابندیاں دوبارہ نافذ کر سکتا ہے جبکہ یوکرین میں جاری تنازع کے خاتمے کی کوششیں اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔

جنیوا جھیل کے کنارے واقع فرانس کے مشرقی ٹاؤن ایویان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنے سے تیل کی نقل و حمل مزید آسان ہونے کے بعد روسی تیل کی ترسیل پر پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم جلد ایسا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔” یہ امکان ایران کے ساتھ گزشتہ ہفتے کے آخر میں طے پانے والے امن معاہدے کے بعد پیدا ہوا ہے۔

مارچ میں امریکی محکمہ خزانہ نے 30 روزہ رعایت جاری کی تھی جس کے تحت ممالک کو روسی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات خریدنے کی اجازت دی گئی تھی جو پہلے ہی بحری جہازوں پر لدی ہوئی تھیں اور سمندر میں رکی ہوئی تھیں۔ بعد ازاں ایران سے متعلق تنازع اور آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث عالمی تیل منڈیوں پر دباؤ برقرار رہنے کی وجہ سے اس رعایت میں توسیع کر دی گئی۔

جی 7 سربراہ اجلاس کے دوران یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس سے یوکرین جنگ کے خاتمے اور دفاعی تعاون کے موضوعات پر بات چیت کی۔

ٹرمپ سے ملاقات کے بعد زیلنسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ "انتہائی اہم” ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں روس کے ساتھ اگلے مذاکرات موسم سرما سے پہلے منعقد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے مقام اور طریقہ کار کا فیصلہ ٹرمپ کریں گے۔

یوکرینی خبر رساں ادارے انٹرفیکس یوکرین کے مطابق زیلنسکی نے ٹرمپ کے ساتھ یوکرین میں اینٹی بیلسٹک میزائل دفاعی نظام تیار کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

3روزہ جی 7 سربراہی اجلاس میں یوکرین بحران، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی سمیت متعدد اہم عالمی امور پر غور کیا جائے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں