ہومبیلٹ اینڈ روڈ+سی پیکچینی صدر کے میانمار کے ہم منصب سے مذاکرات، تعاون بڑھانے پر...

چینی صدر کے میانمار کے ہم منصب سے مذاکرات، تعاون بڑھانے پر زور

بیجنگ (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ نے منگل کے روز بیجنگ میں میانمار کے صدر من آنگ ہلینگ کے ساتھ مذاکرات کئے۔

چین کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے من آنگ ہلینگ سے بات چیت کرتے ہوئے صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین ہمسایوں سے متعلق اپنی سفارت کاری میں میانمار کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتا ہےاور چین میانمار کی نئی حکومت کی جانب سے ترقی اور سکیورٹی کی ناگزیر ضروریات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے تاکہ ترقی کا ایسا درست راستہ تلاش کیا جا سکے جو اس کے قومی حالات کے مطابق ہو اور جسے عوامی تائید حاصل ہو۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ چین دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر سختی سے کاربند ہے، میانمار کے تمام عوام کے لئے دوستانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور میانمار کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ موجودہ سال چین کے 15ویں 5 سالہ منصوبے (2026-2030) کا پہلا سال ہے، صدر شی نے کہا کہ چین میانمار کے ساتھ اپنے ترقیاتی تجربات شیئر کرنے اور مشترکہ طور پر چین-میانمار مشترکہ مستقبل کے حامل کمیونٹی کی تعمیر کے لئے تیار ہے جس کی بنیاد سیاسی دوستی، باہمی اعتماد، باہمی فائدے پر مبنی ترقی، سیکورٹی کوآرڈینیشن اور عوامی سطح پر روابط پر استوار ہے۔

صدر شی نے اس بات پر زور دیا کہ میانمار کے ساتھ سب سے طویل مشترکہ سرحد رکھنے والے پڑوسی کی حیثیت سے چین ایک قابل اعتماد دوست اور شراکت دار ہے۔ انہوں نے بدلتے ہوئے اور غیر مستحکم بین الاقوامی منظر نامے میں دونوں ممالک پر یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے چین-میانمار اقتصادی راہداری کو دونوں ممالک کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کا ایک نمایاں منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اطراف کو اہم منصوبوں کی محفوظ تعمیر کو مستقل مزاجی سے آگے بڑھانا چاہیے تاکہ میانمار کو اپنی معیشت کو ترقی دینے اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

شی نے کہا کہ چین زلزلے کے بعد میانمار کی بحالی کے کاموں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کو آن لائن جوئے، ٹیلی کام فراڈ اور منشیات کی سمگلنگ سمیت دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف یکجا ہو کر کارروائیاں جاری رکھنی چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین میانمار کے تمام فریقوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے امن اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کی حمایت کرتا ہے تاکہ شمالی میانمار میں مستقل استحکام حاصل کیا جا سکے جو کہ میانمار اور وہاں کے عوام کے بنیادی اور طویل مدتی مفاد میں ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کی تعریف کرتے ہوئے من آنگ ہلینگ نے میانمار کی ترقی، استحکام، امن اور مفاہمت کے لئے چین کی طویل مدتی اور بے لوث حمایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میانمار ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے قائم رہے گا۔

من آنگ ہلینگ نے کہا کہ میانمار اپنی سرزمین پر چینی کمپنیوں اور عملے کے تحفظ کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ان کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میانمار آن لائن جوئے اور ٹیلی کام فراڈ کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کرنے اور سرحدی سکیورٹی و استحکام کے تحفظ کے لئے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ میانمار صدر شی کی جانب سے پیش کئے گئے 4 بڑے عالمی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے اور چین کے ساتھ کثیر الجہتی رابطے اور ہم آہنگی کو گہرا کرنے کے لئے تیار ہے۔

مذاکرات کے بعد دونوں سربراہان مملکت نے نقل و حمل اور عوامی بہبود سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کی دستاویزات پر دستخط کی تقریب کا مشترکہ طور پر مشاہدہ کیا۔

مذاکرات سے قبل صدر شی جن پھنگ نے من آنگ ہلینگ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا اور ظہرانہ بھی دیا گیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں