بیجنگ (شِنہوا) چینی مین لینڈ کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ تائیوان میں امن، ترقی، تبادلوں اور تعاون کے حق میں موجود غالب عوامی رائے کو دبایا نہیں جا سکتا۔
چین کی ریاستی کونسل کے تائیوان امور دفتر کی ترجمان ژانگ ہان نے ان خیالات کا اظہار تائیوان میں قائم ڈیموکریسی فاؤنڈیشن کے حالیہ سروے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں دیا۔
جس کے مطابق تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان نے مین لینڈ چین کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کی حمایت کی۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً 70 فیصد افراد کا خیال ہے کہ آبنائے تائیوان کے دونوں جانب تعلقات کو بہتر بنانے اور امن کے حصول کے لئے مزید کوششیں کی جانی چاہئیں۔
ترجمان نے کہا کہ یہ سروے ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف کے عوام امن و استحکام اور باہمی تعلقات کی بہتری اور ترقی کے خواہاں ہیں۔
ژانگ نے کہا کہ تائیوان کے عوام کی بڑھتی ہوئی تعداد خصوصاً نوجوان نسل اس حقیقت کو سمجھنے لگی ہے کہ تائیوان کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کا گہرا تعلق آبنائے تائیوان کے دونوں جانب تعلقات کی پرامن ترقی، قومی اتحاد اور چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ سے ہے۔


