نیویارک (لارڈ میڈیا): اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لی نے کہا ہے کہ جنگ بندی برقرار رکھنا بڑی ترجیح ہونی چاہیے اور فریقین کو طاقت کے بجائے برابری کی بنیاد پر بات چیت کرنی چاہیے۔ سن لی نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں نے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے اور جوہری مسئلے پر طاقت یا جنگ کی دھمکیاں صورتحال کو خطرناک بنا سکتی ہیں۔
سن لی نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور عالمی برادری کو سفارتی حل کے لیے مثبت ماحول پیدا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو ایران پر پابندیاں لگانے کے بجائے تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔
دریں اثنا، چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقین کو حالات کو مزید بگاڑنے سے گریز کرنا چاہیے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔
لن جیان نے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع نے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کیا ہے اور فوجی ذرائع مسائل کا حل نہیں ہوتے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اہم مرحلے میں ہیں اور کسی کو بھی فوجی تنازع بھڑکانے سے گریز کرنا چاہیے۔
چینی ترجمان نے خطے کے ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام اور تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔


