بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت قدرتی وسائل نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ملک میں سمندری پانی کے استعمال میں ہونے والی نئی پیشرفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں سمندری پانی میں موجود اہم سٹریٹجک معدنیات کے بڑے ذخائر اور ان وسائل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل کرنے کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین نے سمندرکے قدرتی ماحول سے یورینیم کو کلوگرام سطح پر حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس کے علاوہ ملکی تحقیقی اداروں، جامعات اور کمپنیوں نے لیتھیم، یورینیم، ڈیوٹیریم اور دیگر نایاب عناصر کے حصول سے متعلق بنیادی نظریات اور اہم ٹیکنالوجی میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سمندری پانی میں موجود یورینیم کے عالمی ذخائر کا اندازہ تقریباً 4.5 ارب ٹن لگایا گیا ہے جو خشکی پر موجود معلوم ذخائر سے ایک ہزار گنا زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چین میں سمندری پانی کی صفائی اور اس کے جامع استعمال کی صنعت کو ایک ابھرتی ہوئی تزویراتی صنعت قرار دیا گیا ہے اور یہ شعبہ مجموعی طور پر مستحکم ترقی کر رہا ہے۔
چین کے شمالی شہر تیانجن میں سمندری پانی کی صفائی اور اس کے مختلف مصرف کے متعلق ادارے کے ڈائریکٹر شیانگ وین شی کے مطابق چین میں اس وقت پانی کو صاف کرنے کے 167 منصوبے ہیں جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت یومیہ 30لاکھ77 ہزار ٹن ہے۔ اسی طرح صنعتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے سمندری پانی کے استعمال کی سالانہ مقدار 193.36 ارب ٹن تک پہنچ چکی ہے جو 2020 کے مقابلے میں 86.4 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران چین متعلقہ ٹیکنالوجی اور آلات کو مزید بہتر بنائے گا اور سمندری پانی سے سٹریٹجک عناصر کے حصول کے لئے ٹیکنالوجی کے ذخائر مضبوط کرے گا۔


