بیجنگ (شِنہوا) چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وہاں کام کرنے اور رہنے والے چینی صحافیوں کے جائز حقوق اور مفادات کو یقینی بنانا چاہیے اور اس معاملے پر چین کے ساتھ طے پانے والے مشترکہ موقف پر عملدرآمد کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اس وقت کیا، جب امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا کہ چین امریکی صحافیوں کو وہی حقوق فراہم نہیں کرتا جن کی وہ چینی میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں کے لئے امریکی حکام سے توقع رکھتا ہے۔
ماؤ نے کہا کہ "امریکہ باہمی یکساں سلوک کی بات کرتا ہے اور یہی دراصل چین کا بھی بنیادی موقف ہے۔ میڈیا کا یہ مسئلہ خود امریکہ نے ہی شروع کیا تھا۔”
انہوں نے کہا کہ جب سے دونوں فریقین کے درمیان 3 مشترکہ امور پر افہام و تفہیم پیدا ہوئی تھی، چین نے ان پر مکمل عملدرآمد کیا ہے جس میں امریکی صحافیوں کو چین سے رپورٹنگ کے لئے ویزے کی سہولت فراہم کرنا بھی شامل تھا۔
ماؤ کے مطابق تقریباً کسی بھی چینی صحافی کو وائٹ ہاؤس میں براہ راست کوریج کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔ ان کے ویزوں اور رہائشی اجازت ناموں میں اکثر بغیر کسی معقول وجہ کے تاخیر کی جاتی ہے جبکہ کئی صحافیوں کو چین واپس جانے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چینی صحافیوں کی امریکہ میں قلیل مدتی رپورٹنگ کے اسائنمنٹس کے لئے درخواستیں شاید ہی کبھی منظور کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اظہار رائے کی آزادی کی باتیں تو کرتا ہے لیکن امریکہ میں چینی میڈیا پر سیاسی طور پر "غیر ملکی ایجنٹ” اور ” غیر ملکی مشن ” کے لیبل لگا دیئے گئے ہیں۔


