ہومانٹرنیشنلآسیان کا 48 واں سربراہ اجلاس، تیل کے عالمی بحران کے دوران...

آسیان کا 48 واں سربراہ اجلاس، تیل کے عالمی بحران کے دوران سکیورٹی مسائل پر غور

منیلا (شِنہوا) آسیان کا 48 واں سربراہ اجلاس جمعہ کے روز فلپائن کے صوبہ سیبو میں شروع ہوا، جس میں توانائی، غذائی تحفظ اور دنیا بھر میں آسیان ممالک کے شہریوں کی سلامتی کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلپائن کے صدر اور آسیان 2026 کے چیئرمین فرڈینینڈ روموالڈیز مارکوس نے کہا کہ یہ سربراہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب دنیا کو بڑے مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بننے والی غیر یقینی صورتحال نے آسیان ممالک کو متاثر کیا ہے جبکہ غیر یقینی صورتحال نے لوگوں کے رہن سہن، روزگار اور زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

یہ سربراہ اجلاس اور متعلقہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب آسیان رکن ممالک میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر رکاوٹیں اور مشرق وسطیٰ میں آسیان شہریوں کو بڑھتے ہوئے سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

آسیان رہنما مشرقی تیمور کی تنظیم میں مکمل شمولیت کی حمایت اور میانمار کی تازہ صورتحال سمیت دیگر اہم امور پر بھی بات چیت کریں گے۔

1967 میں قائم ہونے والی اس تنظیم میں برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، ویت نام اور تیمور لیستے شامل ہیں۔ تیمور لیستے (مشرقی تیمور) گزشتہ اکتوبر میں ملائیشیا میں ہونے والے 47 ویں آسیان سربراہ اجلاس میں تنظیم کا رکن بنا تھا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں