پاکستان سٹیٹ آئل نے 31 مارچ 2026 کو ختم ہونیوالے مالی سال کے ابتدائی 9ماہ کے دوران 38.1 ارب روپے کا خالص منافع حاصل کیا ہے جو گزشتہ سال اسی عرصے کے 15.3 ارب روپے کے مقابلے میں خاطر خواہ اضافہ ہے، اس دوران پی ایس او کی فی حصص آمدنی بھی بڑھ کر 81.19 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ مجموعی فروخت 2.4 کھرب روپے رہی، گروپ کی مجموعی کارکردگی بھی اسی رحجان کی عکاس رہی جہاں خالص منافع بڑھ کر 39.4ارب روپے تک پہنچ گیا اور فی حصص آمدنی 83.93روپے ریکارڈ کی گئی جو تمام ذیلی کمپنیوں میں غیر معمولی منافع بخش کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مالی سال 2026کی تیسری سہ ماہی عالمی سطح پر شدید معاشی دبائو سے متاثر رہی جہاں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، بحران کے نتیجے میں 1988کے بعد تیل کی قیمتوں میں مہنگائی کے لحاظ سے سب سے بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، قطر انرجی اور کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی جانب سے جی ٹو جی سپلائرز کے فورس میجر کے اعلانات کے باعث ایل این جی اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، ان غیر معمولی حالات میں پی ایس او نے حکمت عملی اور بروقت اقدامات کے ذریعے پاکستان کی توانائی سکیورٹی کو یقینی بنایا، متبادل بین الاقوامی ذرائع کے حصول اور مقامی ریفائنریز پر انحصار بڑھا کر کمپنی نے سپلائی میں خلل کے اثرات کو کم کیا جو دیگر مارکیٹ شرکا کو متاثر کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق پی ایس او نے وائٹ آئل سیکٹر میں 42.6 فیصد مارکیٹ شیئر کیساتھ اپنی برتری برقرار رکھی اور مجموعی فروخت 5,163 ہزار میٹرک ٹن رہی، ڈیزل میں کمپنی کا حصہ 42.4 فیصد جبکہ موٹر گیسولین میں 37.8فیصد رہا، ایوی ایشن سیکٹر میں کمپنی نے 99.2 فیصد مارکیٹ شیئر کیساتھ اپنی برتری برقرار رکھی جبکہ لبریکنٹس کے کاروبار میں 16 فیصد حجم کے لحاظ سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایل پی جی کے شعبے میں بھی ریکارڈ 46,895 میٹرک ٹن فروخت حاصل کی گئی جو سالانہ بنیادوں پر 10فیصد اضافہ ہے۔


