وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی ہیں، حالیہ ہفتوں میں پیش آنیوالے اہم واقعات پر کابینہ کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 11 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں مذاکراتی عمل کا آغاز ہو، فریقین کے درمیان 21 گھنٹے طویل نشست ہوئی، ان کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی اور اس میں توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور انکی ٹیم نے خلوص نیت سے کردار ادا کیا جبکہ محسن نقوی کی کوششیں بھی قابل ستائش ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا دورہ کیا جہاں تفصیلی مذاکرات ہوئے، بعد ازاں وہ عمان اور روس بھی گئے۔
انکا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں پاکستان کا ایک ہفتے کا درآمدی بل 30کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، بڑھتی ہوئی قیمتوں نے معاشی استحکام کی کوششوں پر اثر ڈالا ہے تاہم حکومت نے اجتماعی کاوشوں کے ذریعے صورتحال سے نمٹنے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔
انہوں نے وفاقی وزیراعلی پرویز ملک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹاسک فورس صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں سبسڈی برقرار رکھنے کیلئے صوبوں سے مشاورت جاری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ساڑھے 3ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کئے ہیں، انہوں نے سعودی عرب کی قیادت کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہاکہ مسائل کے حل کیلئے دن رات محنت کرنا ہوگی اور قوم کو ہمت، محنت اور یکسوئی کیساتھ آگے بڑھنا ہے، امید ہے خطے میں کشیدگی جلد ختم ہوگی اور پائیدار امن قائم ہوگا، پاکستان کی امن کیلئے کوششیں مسلسل جاری رہیں گی۔


