وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں غیر ضروری پابندیاں اور تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں 60سے 70غیر ضروری پابندیاں ختم ہونگی، درآمدات اور برآمدات پر عائد 2600سے زائد رکاوٹیں بتدریج کم کی جائیں گی۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کی تجویز پر اگلے بجٹ میں ٹیرف 10.7 سے 9.5 فیصد پر لانے کی تجویز ہے، 2030تک اوسط ٹیرف کم کر کے 7.4 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر ہے، گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 4 سال میں 40 فیصد سے صفر کرنے، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، لیدر، کیمکلز و دیگر شعبوں میں رکاوٹیں دور کرنے کا بھی منصوبہ ہے، بجٹ میں کاروبار آسان بنانے کے اقدامات بھی شامل ہونگے، مجوزہ اقدامات کے تحت ٹیکس کے علاوہ رکاوٹیں کم اور معیشت کو سہارا دینے کے مزید اقدامات پر غور جاری ہے، نئے بجٹ میں درآمدی ڈیوٹی میں بھی بتدریج کمی کی تجویز ہے۔
حکام کے مطابق نومبر 2026تک ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی آرڈرز میں مزید ترمیم کا فیصلہ کیا گیا ہے، مختلف شعبوں پر مزید نان ٹیرف رکاوٹوں کا مرحلہ وار خاتمہ کیا جائیگا، ڈیوٹیز میں کمی نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت کی جائیگی۔
وزارت خزانہ کے مطابق اوسط ٹیرف میں کمی سے درآمدی لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی اور اصلاحات سے برآمدات و سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے، کابینہ کی کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز اقدامات کی حتمی منظوری دیگی۔


