پولینڈ کے ایک صنعتی ماہر کا کہنا ہے کہ چین کے تیارکردہ انسان نما روبوٹس اپنی اعلیٰ دستیابی، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور مسابقتی قیمتوں کے باعث عالمی شراکت داروں کی "پہلی ترجیح” بنتے جا رہے ہیں۔
انسان نما روبوٹس بنانے کی ٹیکنالوجی سے وابستہ پولینڈ کی کمپنی ’’میرا روبوٹکس‘‘ کے شریک بانی رادوسواف گرزیلاچک نے حال ہی میں شِنہوا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں انسان نما روبوٹس کے شعبے کی تیز رفتار ترقی میں چین کے قائدانہ کردار کو اجاگر کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): رادوسواف گرزیلاچک، شریک بانی، میرا روبوٹکس
"انسان نما روبوٹس کی منڈی میں چین بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ میں نے یہ چیز اس وقت دیکھی جب میں چین گیا تھا۔”
ایک انسان نماروبوٹ “ایڈورڈ” کے تخلیق کاروں میں گرزیلاچک بھی شامل ہیں۔ یہ روبوٹ حال ہی میں اس وقت وائرل ہوا جب سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں اسے وارسا کی سڑکوں پر جنگلی سوروں کو بھگاتے دکھایا گیا۔
یہ انسان نما روبوٹ چین کے یونٹری جی ون ماڈل پر مبنی ہے۔ ’’میرا روبوٹکس‘‘ کے آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ منسلک یہ روبوٹ مقامی استعمال کے مطابق ڈھالا گیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے شیئر کی گئی آن لائن ویڈیوز کو لاکھوں افراد نے دیکھا جس کے بعد ایڈورڈ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنا رہا۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): بارتوش اِدزک، شریک بانی، میرا روبوٹکس
"یہ جنگلی سور باقاعدگی سے آتے ہیں۔ جنگلی جانوروں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ شہروں میں داخل ہو جاتے ہیں اور لوگوں پر حملے کرتے ہیں۔ پھر ہم انہیں روبوٹ کی مدد سے بھگانے کی کوشش کرتے ہیں۔”
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): رادوسواف گرزیلاچک، شریک بانی، میرا روبوٹکس
"میں اس پر واقعی بہت خوش ہوں کیونکہ پولینڈ میں 50 کروڑ ویوز کا مطلب ہے کہ ملک کے تقریباً ہر شہری نے اس ویڈیو کو دیکھا ہے۔”
گزشتہ برس انسان نما روبوٹکس کی تجارتی صلاحیت کا جائزہ لینے کے لئے چین کا دورہ کرنے کے بعد گرزیلاچک اور ان کی ٹیم نے چینی ہارڈویئر کو مقامی طور پر تیار کردہ سافٹ ویئر کے ساتھ ملا کر یورپی صارفین کے لئے موزوں حل تیار کئے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کمپنیوں کے مقابلے میں چین کے تیارکردہ روبوٹس اعلیٰ کارکردگی اور جدید تکنیکی مہارت کو برقرار رکھتے ہوئے زیادہ قابلِ رسائی اور کم لاگت کے حامل ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 4 (انگریزی): رادوسواف گرزیلاچک، شریک بانی، میرا روبوٹکس
"پولینڈ کی سڑکوں پر چینی انسان نما روبوٹ دراصل تعاون کی مثال ہیں۔ میرے خیال میں یہ ہمارا انتخاب نہیں بلکہ یہ ٓصرف ایک راستہ ہے۔ اگر ہم الیکٹرانکس کی بات کریں تو مستقبل میں ہمیں چینی ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت پڑے گی کیونکہ میرے خیال میں اس سے بہتر کوئی آپشن موجود نہیں۔”
اگرچہ انسان نما روبوٹکس کی عالمی منڈی ابھی نسبتاً چھوٹی ہے تاہم گرزیلاچک کو توقع ہے کہ یہ تیزی سے ترقی کرے گی اور مستقبل قریب میں سب سے بڑی عالمی منڈیوں میں شمار ہو جائے گی۔
’’میرا روبوٹکس‘‘ کمپنی جولائی کے اختتام تک چین سے تقریباً 100 انسان نما روبوٹس درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اپنے آپریشنز کو وسعت دی جا سکے۔
گرزیلاچک نے کہا کہ کمپنی اپنے ہی سافٹ ویئر سسٹمز کے ذریعے ان روبوٹس کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالتی رہے گی اور چین اور پولینڈ میں ٹیکنالوجیز کے امتزاج پر مبنی حل کو فروغ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین میں ہونے والی جدتوں پر قریبی نظر رکھنا ان کے روزمرہ کام کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے کیونکہ وہ یورپی منڈی میں مزید جدید مصنوعات متعارف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وارسا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹیکسٹ آن سکرین:
چین کے انسان نما روبوٹس عالمی شراکت داروں کی ترجیح بن گئے
روبوٹس کم لاگت اور اعلیٰ کارکردگی کے حامل ہیں
پولینڈ میں “ایڈورڈ” روبوٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا
ویڈیو میں ایڈورڈ کو جنگلی سور بھگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے
پولینڈ کے صنعتی ماہر چین کی روبوٹکس ترقی کےمعترف ہیں
گرزیلاچک نے چینی روبوٹس کو جدید ٹیکنالوجی کی واضح مثال قرار دیا
الیکٹرانکس کے شعبےمیں چینی ٹیکنالوجی سے بہتر کوئی آپشن نہیں
میرا روبوٹکس نے چینی ہارڈویئر اور مقامی سافٹ ویئر کا امتزاج پیش کیا
یورپی صارفین کے لئےمقامی طور پر موزوں حل تیار کئے جا رہے ہیں
پولینڈ کی کمپنی چین سے مزید روبوٹس درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے


