بیجنگ (شِنہوا) چین میں خدمات کا شعبہ روزگار کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے جس نے 2025 کے اختتام تک ملک کی کل افرادی قوت کے تقریباً 50 فیصد حصے کو اپنے اندر سمو لیا ہے جو کہ ایک سال پہلے 48.8 فیصد تھا۔
قومی ادارہ شماریات کی ایک عہدیدار وانگ پھنگ پھنگ نے بتایا کہ ٹرانسپورٹیشن، رہائش اور کیٹرنگ، معلومات کی ترسیل، ثقافت اور کھیل کے ساتھ ساتھ صحت اور سماجی امور جیسی خدمات کی صنعتوں میں 2025 کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں روزگار کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی روزگار میں پیداواری شعبے کا حصہ مستحکم رہا کیونکہ حکام نے ملازمتوں کے مواقع بڑھانے کے لئے صنعتی شعبوں کا بھرپور استعمال کیا۔
حالیہ برسوں میں خدمات کے شعبے کی تیز رفتار توسیع کے ساتھ ساتھ روزگار کی نئی اقسام بھی سامنے آئی ہیں، جن میں لائیو سٹریم ہوسٹس، ڈیلیوری رائیڈرز اور رائیڈ ہیلنگ ڈرائیورز شامل ہیں جس نے افرادی قوت میں تنوع پیدا کیا ہے۔
این بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں خدمات کے شعبے کی ویلیو ایڈڈ پیداوار جی ڈی پی کا 61.7 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی نسبت 0.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے۔ اس عرصے کے دوران معاشی ترقی میں اس شعبے کا حصہ 63.2 فیصد تک پہنچ گیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 4 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔


