واشنگٹن (شِنہوا) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر اس ہفتے کے اختتام تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تو ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کا کوئی امکان نہیں۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ٹیلی فون پر انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امن معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ میں آبنائے ہرمز کھول دوں۔ ایرانی بے حد چاہتے ہیں کہ اسے کھول دیا جائے۔ میں اسے اس وقت تک نہیں کھولوں گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پاجاتا۔ واشنگٹن کی جانب سے ناکہ بندی برقرار رکھنے اور امریکی بحریہ کی جانب سے ہفتے کے اختتام پر ایرانی پرچم بردار جہاز کو قبضے میں لینے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں کسی برے معاہدے کے لئے جلد بازی نہیں کروں گا۔ ہمارے پاس بہت وقت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 7اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی امریکی مشرقی وقت کے مطابق بدھ کی شام ختم ہو جائے گی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو کیا فوراً حملے دوبارہ شروع ہو جائیں گے تو ٹرمپ نے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو میں یقیناً یہی کروں گا۔
پیر کی صبح پی بی ایس نیوز کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو گئی تو پھر بہت سے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔
اسلام آباد میں نئے مذاکرات میں ایرانی مذاکرات کاروں کی شرکت کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم لیکن انہیں وہاں ہونا چاہیے۔ ہم نے وہاں ہونے پر اتفاق کیا تھا مگر وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایسی کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ لیکن یہ طے ہو چکا تھا۔ ہم دیکھیں گے کہ وہ وہاں ہوتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ نہیں ہوتے تو یہ بھی ٹھیک ہے۔
انہوں نے پیر کی صبح نیویارک پوسٹ کو بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے پاکستان جانے والے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے دو امریکی عہدیداروں کا حوالہ دیتےہوئے بتایا کہ توقع ہے وینس منگل کو واشنگٹن سے پاکستان کے لئے روانہ ہوں گے ۔
ٹرمپ نے جریدے کو یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی بڑی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کے لئے تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے بلوم برگ کو پیر کی صبح کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ مذاکرات میں ذاتی طور پر شرکت کرنا ضروری ہوگا۔
امریکی سنٹرل کمان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ پیر کی صبح تک امریکی افواج ایران کی بندرگاہوں کی طرف جانے یا وہاں سے آنے والے 27 جہازوں کو واپس موڑ چکی ہیں۔


