اسلام آباد (لارڈ میڈیا): اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی حکومت کی سفارش پر سمری کی منظوری دے دی، جس کے تحت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں۔
تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا اطلاق 10 دسمبر 2025 سے ہوگا، اور پچھلی مدت کے مالی فوائد بھی سپریم کورٹ ججز کو دیے جائیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ دیگر ججز کی تنخواہ 15 لاکھ روپے ہوگی۔
سپریم کورٹ ججز کے جوڈیشل الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے 11 لاکھ 61 ہزار سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ پنشن پیکج میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس میں عمر کی حد بڑھا دی گئی ہے۔
ہائیکورٹ ججز کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ ہائیکورٹ چیف جسٹس کی تنخواہ 12 لاکھ 54 ہزار روپے اور دیگر ججز کی تنخواہ 12 لاکھ 5 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
دو سال سے زائد عرصہ چیف جسٹس رہنے والوں کے لیے رعایتی قیمت پر گاڑی خریدنے کی اجازت دی گئی ہے، اور ریٹائرڈ ججز کو وفاقی حکومت کے ثالثی معاملات میں فیس کی اجازت بھی ملے گی۔


