کراچی (لارڈ میڈیا): احتساب عدالتوں سے اینٹی کرپشن کورٹس منتقل کیے گئے کرپشن مقدمات دوبارہ نیب عدالتوں کو منتقل کردیے گئے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر کی درخواست پر احتساب عدالت نے 15 ریفرنسز بحال کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے مقدمات اینٹی کرپشن کورٹ منتقل کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام مقدمات نیب عدالت منتقل کرنے کا کہا تھا۔ نیب نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے مقدمات بحال کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔
احتساب عدالت نے 15 مختلف ریفرنسز میں نامزد ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا ہے۔ ان مقدمات میں اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور کرپشن کیسز شامل ہیں جن میں بلوچستان کے صوبائی وزیر علی حسن بروہی بھی نامزد ہیں۔
عدالت نے سندھ کے سابق چیف سیکرٹری اور لینڈ یوٹیلائزیشن ممبر صدیق میمن، ملیر کے سابق ڈی سی قاضی جان محمد، سابق ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو اعجاز حسین، سابق ایڈیشنل سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن عبدالقادر میمن، سابق سیکشن آفیسر غلام مصطفیٰ، ٹریژری افسر محمد موسیٰ کاظمی، اسسٹنٹ ٹریژری افسر عبداللطیف کھوسو سمیت دیگر افراد کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔
اس کے علاوہ میرپور ساکرو کے تپیدار نثار احمد وگن، علی اصغر میندھرو، سابق مختیارکار اقبال اعوان، ملیر کے سابق ڈپٹی کمشنر قاضی جان محمد، محمد حنیف، بلڈرز جاوید اقبال اور وسیم احمد شیخ سمیت متعدد ریونیو افسران کو عدالت نے طلب کرلیا ہے۔


