سیچھوان کے کھانوں اور چینی ادب سے لے کر پاپ موسیقی تک 29 سالہ آسٹریلوی نوجوان میکنزی لینگ کو چینی ثقافت میں گہری دلچسپی ہے۔
چینی دوست انہیں لینگ ماکون کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ آسٹریلیاچائنہ یوتھ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ اس پلیٹ فارم نے آسٹریلیا اور چین کے تقریباً 10 ہزار نوجوانوں کو آپس میں جوڑ رکھا ہے۔
پرتھ میں شِنہوا کو دئیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں لینگ نے تین ایسی باتیں بتائیں جنہیں وہ چاہتے ہیں کہ آسٹریلوی نوجوان چین کے بارے میں سمجھیں۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): میکنزی لینگ، چیف ایگزیکٹو آفیسر، آسٹریلیا چائنہ یوتھ گروپ
’’میرے خیال میں سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ ثقافتی فرق سے زیادہ مرعوب نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان سب کے پیچھے ہم سب کے جذبات اور امیدیں ایک جیسی ہیں۔
میرے خیال میں دوسری بات جسے جاننا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ چین بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ چین کے بارے میں جو کچھ انہوں نے سنا یا سیکھا ہے اگرچہ اسے گزرے صرف چند سال ہی کیوں نہ ہوئے ہوں وہ موجودہ صورتحال کی صحیح عکاسی نہیں کرتا۔
تیسری بات یہ جاننا ضروری ہے کہ چین غیر ملکی سیاحوں اور مہمانوں کا کس قدر خیرمقدم کرتا ہے۔ وہاں سفر کرنا بھی بہت ہی آسان ہے۔ آن لائن ادائیگی کا نظام اور ترسیل کا بنیادی ڈھانچہ ملک بھر میں سفر کو آسان بناتا ہے۔‘‘
لینگ کا چین کے ساتھ تعلق ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ قبل قائم ہوا تھا۔
وہ پہلی بار سال 2013 میں سیر کرنے آئے۔ تب انہوں نے اپنے خاندان کے ہمراہ بیجنگ کا دوہ کیا تھا۔
برسبین سے تعلق رکھنے والے لینگ چین کے قدیم ثقافتی ورثے اور اس کی تیز رفتار جدید کاری کے درمیان نمایاں فرق سے بہت متاثر ہوئے۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): میکنزی لینگ، چیف ایگزیکٹو آفیسر، آسٹریلیاچائنہ یوتھ گروپ
’’یہ دیکھنا واقعی حیران کن تھا،۔ خاص طور پر وہاں کی متحرک ترقی۔ وہاں بہت کچھ تھا۔ ایک طرف قدیم تاریخ تھی تو دوسری طرف جدید بلند و بالا عمارتیں۔ مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ آپ اپنی آنکھوں کے سامنے عمارتوں کو گرتے اور دوبارہ تعمیر ہوتے دیکھ سکتے تھے۔ آپ یہ بھی دیکھ سکتے تھے کہ چیزیں آپ کے سامنے تبدیل ہو رہی تھیں جبکہ ماضی کا احترام اپنی جگہ برقرار تھا۔‘‘
لینگ کا کہنا ہے کہ آج آسٹریلوی نوجوان مختلف وجوہات کی بنا پر چین میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لئے براہِ راست تجربات اور عوامی سطح پر تبادلے بدستور انتہائی اہم ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): میکنزی لینگ، چیف ایگزیکٹو آفیسر، آسٹریلیاچائنہ یوتھ گروپ
’’سب سے اہم کام جو ہم کر سکتے ہیں وہ اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ ہم سب ایک ایسی دنیا کے لئے کام کریں جہاں ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھا جائے۔ میرے خیال میں اس کی زیادہ تر ابتدا نوجوانوں سے ہوتی ہے۔ انہیں دوسرے ملک کی ثقافت کے بارے میں جاننے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ انہیں دوسرے ملک کا سفر کرنے اور وہاں کے لوگوں سے میل جول بڑھانے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔‘‘
پرتھ، آسٹریلیا سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


