چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس) کے تحت قائم شی شوانگ باننا ٹراپیکل بوٹینیکل گارڈن (ایکس ٹی بی جی) استوائی ماحولیاتی نظام کے مطالعے کے لئے ایک فعال تحقیقی تجربہ گاہ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔
ہسپانوی ماہر ماحولیات ہوزے اہیمسا کامپوس آرسیز گزشتہ 20 برسوں سے زائد عرصے سے انسان اور ہاتھی کے بقائے باہمی پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ نباتاتی باغ سائنس دانوں کو مل کر کام کرنے کا ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): ہوزے اہیمسا کامپوس آرسیز، ہسپانوی ماہر ماحولیات، شی شوانگ باننا ٹراپیکل بوٹینیکل گارڈن، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس)
’’اس نباتاتی باغ میں کام کرنے کا میرا تجربہ نہایت مثبت رہا ہے۔ میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ استوائی ماحولیات کے مطالعے کے لئے یہ ایشیا کا بہترین مقام ہے کیونکہ یہاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی نہایت متنوع تعداد موجود ہے۔ ہمارے ساتھ چین اور بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ماہرین کام کر رہے ہیں۔‘‘
ان کی تحقیقی ٹیم نے مختلف ممالک کے سائنس دانوں کو اکٹھا کیا جو استوائی حیاتیاتی تنوع کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کے مؤثر تحفظ کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): ہوزے اہیمسا کامپوس آرسیز، ہسپانوی ماہر ماحولیات، شی شوانگ باننا ٹراپیکل بوٹینیکل گارڈن، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (سی اے ایس)
’’ہم مختلف ممالک اور متنوع پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی تنوع ہمیں وسیع تر نقطۂ نظر فراہم کرتا ہے۔ اس لئے میرے خیال میں ایکس ٹی بی جی اس خطے میں تعلیم و تربیت کا ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ ہم ہر سال تربیتی پروگرام کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ ادارہ چین اور استوائی ایشیا کے درمیان علم اور تجربات کے تبادلے کا ایک مؤثر پل ثابت ہو رہا ہے۔‘‘
شی شوانگ باننا، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


