ہومتازہ ترینشپلومیسی: سب کی بھلائی کے لئے بڑے مقصد کا حصول

شپلومیسی: سب کی بھلائی کے لئے بڑے مقصد کا حصول

بیجنگ (شِنہوا) یونان کی پیرائیوس بندرگاہ یورپ کے مصروف ترین بحری مراکز میں شامل ہے، جہاں چوبیس گھنٹے بحری جہاز آتے جاتے رہتے ہیں، سامان کی ترسیل کرتے اور دنیا بھر کی منڈیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔

ماضی میں معاشی مشکلات کا شکار رہنے والی اس بندرگاہ نے تعاون کے ذریعے نمایاں ترقی کی ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ باہمی تعاون مشترکہ ترقی کو آگے بڑھانے میں کس طرح مددگار ثابت ہوسکتا ہے، جسے چینی صدر شی جن پھنگ اپنی سفارتی سوچ اور سرگرمیوں میں اکثر اجاگر کرتے ہیں۔

2019 میں یونان کے سرکاری دورے میں شی جن پھنگ نے بندرگاہ کا دورہ کیا اور تعاون کے منصوبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چین بیرونی تعلقات میں انصاف اور باہمی مفادات کے درست اصول پر کاربند ہے۔ انہوں نے اس بات کو حوصلہ افزا قرار دیا کہ اس منصوبے نے مشکل وقت میں مقامی لوگوں کی مدد کی۔

یونان کے وزیراعظم کیریاکوس میتسوتاکس نے شی جن پھنگ سے کہا کہ چین کے ساتھ پیرائیوس بندرگاہ کے منصوبے میں تعاون کے ذریعے یونان نے دوستی کے حقیقی مفہوم کو زیادہ گہرائی سے سمجھا ہے۔

پیرائیوس بندرگاہ کا منصوبہ تعاون کے ایسے متعدد منصوبوں میں سے ایک ہے جن پر شی جن پھنگ خصوصی توجہ دیتے ہیں، جن میں جکارتہ۔بانڈونگ تیز رفتار ریلوے اور پیرو کی چانکے بندرگاہ بھی شامل ہیں۔ یہ منصوبے مقامی آبادی کے لئے عملی اور ٹھوس فوائد کا باعث بنتے ہیں۔

شی جن پھنگ کے نزدیک تعاون کی حقیقی قدر صرف معاشی فوائد سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی طے ہوتی ہے کہ اس سے لوگوں کی زندگیوں میں کتنی بہتری آتی ہے۔

ستمبر 2014 میں تاجکستان کے دورے میں شی جن پھنگ نے دوشنبے میں چین۔تاجکستان مشترکہ تھرمل پاور پلانٹ کی تعمیر کے آغاز کی تقریب میں شرکت کی۔ مقامی لوگوں کو بجلی اور حرارت کی کمی کے باعث درپیش مشکلات دیکھ کر شی جن پھنگ نے کہا کہ وہ خود بھی مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں اور ان لوگوں کی مشکلات کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ منصوبے بہترین ہیں جو حقیقی معنوں میں مقامی لوگوں کے لئے فائدہ مند ہوں۔

شی جن پھنگ کے الفاظ میں کہ ترقی اسی وقت حقیقی ہوتی ہے جب تمام ممالک مل کر ترقی کریں۔ ایسی دنیا میں خوشحالی اور استحکام ممکن نہیں جہاں امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہوتے جائیں۔ ہر قوم بہتر زندگی کی خواہش رکھتی ہے اور جدت کسی ایک ملک کے لئے مخصوص مراعات نہیں ہونی چاہیے۔

مشترکہ ترقی کے حوالے سے شی جن پھنگ کا تصور افریقہ جیسے خطوں میں بھی جڑیں پکڑ رہا ہے جہاں ممالک تیز رفتار ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔

2013 میں صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد شی جن پھنگ نے اپنے پہلے بیرون ملک دورے کے لئے افریقہ کا انتخاب کیا۔ اس دورے میں انہوں نے افریقہ کے لئے چین کی پالیسی کے اصول پیش کئے، جن میں خلوص، عملی نتائج، دوستی و خیرسگالی اور نیک نیتی کے ساتھ ساتھ بڑے مفاد اور مشترکہ مفادات کا حصول شامل ہیں۔

بیجنگ سربراہی اجلاس برائے چین۔افریقہ تعاون فورم 2024 کی افتتاحی تقریب سے کلیدی خطاب میں شی جن پھنگ نے کہا کہ جدت کی راہ پر کوئی فرد اور کوئی ملک پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔

کینیا کے شہر ممباسا میں ممباسا۔ نیروبی سٹینڈرڈ گیج ریلوے (ایس جی آر) کے پورٹ ریٹز سٹیشن پر ایک مال بردار ٹرین کھڑی ہے-(شِنہوا)

گزشتہ برسوں کے دوران چین۔افریقہ تعاون کا دائرہ اقتصادی شعبوں سے بڑھ کر عوامی زندگی سے براہ راست جڑے شعبوں تک پھیل گیا ہے۔ کینیا میں ممباسا۔نیروبی سٹینڈرڈ گیج ریلوے مشرقی افریقہ میں ایک اہم سفری اور تجارتی رابطہ بن چکی ہے جبکہ چین کے تعاون سے مکمل کئے گئے پانی کے منصوبوں نے افریقہ کے لاکھوں لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔

تعاون کا دائرہ صحت عامہ کے شعبے تک بھی پھیل چکا ہے۔ چینی تعاون سے تعمیر کیا گیا افریقہ سنٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کا صدر دفتر پورے براعظم میں صحت کے نظام اور صلاحیت کو مضبوط بنانے میں مدد دے رہا ہے۔ رواں سال مئی میں چین نے افریقی ممالک کے لئے اپنی منڈی مزید کھولتے ہوئے ان تمام 53 افریقی ممالک کے لئے مکمل طور پر زیرو ٹیرف کی سہولت نافذ کردی جن کے ساتھ چین کے سفارتی تعلقات ہیں۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور افریقہ کے تعلقات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ افریقہ کی آزاد اور پائیدار ترقی کو چین کی ترقی کے ساتھ جوڑا جائے۔ اس تعاون کا آخری مقصد دونوں کے لئے فائدہ مند نتائج حاصل کرنا ہے۔

اس کی ایک مثال جون کاؤ ٹیکنالوجی ہے، جسے شی جن پھنگ نے دو دہائیوں سے زائد عرصہ قبل چین کے مشرقی صوبہ فوجیان میں کام کے دوران فروغ دیا تھا۔ بعد میں انہوں نے پاپوا نیوگنی سے دورے پر آئے ایک عہدیدار کو یہ ٹیکنالوجی متعارف کرائی جس سے اس کے بیرون ملک استعمال کی راہ ہموار ہوئی۔

جن کاؤ ٹیکنالوجی میں ایک خاص قسم کی گھاس کو استعمال کرکے کھانے کے قابل مشروم اگائے جاتے ہیں، مویشیوں کے لئے خوراک تیار کی جاتی ہے اور مٹی کے کٹاؤ کو روکا جاتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی غربت میں کمی اور پائیدار ترقی کے لئے ایک موثر ذریعہ بن چکی ہے۔

پاپوا نیو گنی کے ایسٹرن ہائی لینڈز صوبے میں چین کی فوجیان ایگریکلچر اینڈ فارسٹری یونیورسٹی کے ایک ماہر (درمیان میں) مقامی باشندوں کو کھانے اور ادویاتی مشروم اگانے اور مویشیوں کے لئے چارہ تیار کرنے کے لئے استعمال کی جانے والی ایک خاص قسم کی گھاس کے بارے میں بتا رہے ہیں-(شِنہوا)

پاپوا نیو گنی کے ایسٹرن ہائی لینڈز صوبے کے سابق گورنر پیٹی لافاناما نے کہا کہ میں فوجیان صوبے گیا تھا۔ وہاں میری ملاقات اس وقت کے اپنے ساتھی اور گورنر شی جن پھنگ سے ہوئی۔ میرے خیال میں صدر کے دل میں عوام کے لئے خاص جگہ ہے۔

انسانیت کے لئے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کا تصور عالمی ماحولیاتی نظم و نسق کے حوالے سے شی جن پھنگ کی کوششوں میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔ شی جن پھنگ عالمی برادری پر اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے بارہا متحد ہونے پر زور دے چکے ہیں اور کہا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ تمام ممالک کی فلاح و بہبود اور مستقبل سے وابستہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ دسمبر 2015 میں پیرس معاہدے پر مذاکرات کے عمل میں چین نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ انہوں نے معاہدے کی توثیق کے عمل کو تیز کرنے میں چین کے کردار پر اظہار تشکر کیا۔

بان کی مون نے کہا کہ اگر صدر شی جن پھنگ کی پہل نہ ہوتی تو آج بھی ہمارے پاس موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پیرس معاہدہ نہ ہوتا۔

2025 میں پیرس معاہدے کی دسویں سالگرہ کے موقع پر شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس میں چین کے 2035 کے لئے قومی سطح پر طے شدہ ماحولیاتی اہداف کا اعلان کیا۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر ماحول دوست ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے چین کے عزم اور پختہ ارادے کا مزید اظہار ہوا۔

شی جن پھنگ نے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ یہ اہداف پیرس معاہدے کے تقاضوں کی بنیاد پر چین کی جانب سے کی جانے والی بہترین کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

چین کے جنوب مغربی شہر چھونگ چھنگ کی شی ژو توجیا خودمختار کاؤنٹی کی وولونگ کاؤنٹی میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کا منظر-(شِنہوا)

عالمی ماحولیاتی نظم و نسق میں برسوں کی فعال شرکت اور نوجوان نسل کو کرہ ارض کے تحفظ کے لئے ترغیب دینے کی کوششوں کے ذریعے شی جن پھنگ نے زمین پر تمام لوگوں کے لئے ایک مشترکہ برادری کے قیام پر بھی زور دیا ہے تاکہ انسانیت کی پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

شی جن پھنگ نے کہا کہ ہمارے عوام چاہتے ہیں کہ قومی ترقی کے اہداف کامیابی سے حاصل ہوں لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام لوگ خوشحال اور پرامن زندگی گزاریں۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں