بیجنگ (شِنہوا) چین کی اعلیٰ عوامی عدالت (ایس پی سی) نے پیر کے روز بتایا ہے کہ چین کی ایک بحری عدالت نے آبنائے ہرمز کے قریب دو غیر ملکی بحری جہازوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازع کو کامیابی سے ثالثی کے ذریعے حل کر لیا ہے۔
چین کے جنوبی صوبے گوانگ ڈونگ میں قائم گوانگ ژو میری ٹائم کورٹ (جی ایم سی) نے ایس پی سی کی رہنمائی میں اس مقدمے کی سماعت کی، جس میں مجموعی طور پر 18 کروڑ یوآن (تقریباً 2 کروڑ 65 لاکھ امریکی ڈالر) کے دعوے شامل تھے۔ ایس پی سی کے ایک بیان کے مطابق اس مقدمے میں انٹیگوا و باربوڈا کے پرچم بردار جہاز ’’ایڈالین‘‘ اور لائبیریا کے پرچم بردار جہاز ’’فرنٹ ایگل‘‘ شامل تھے، جن دونوں کی ملکیت اور آپریشن غیر ملکی اداروں کے پاس تھا۔
دونوں بحری جہاز جون 2025 میں آبنائے ہرمز کے قریب سمندری حدود میں آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ جب ’’فرنٹ ایگل‘‘ صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر شین زین میں مرمت کے مراحل سے گزر رہا تھا تو ’’ایڈالین‘‘ کے مالک نے جی ایم سی سے مذکورہ جہاز کو تحویل میں لینے کا حکم جاری کرنے کی درخواست کی۔
دونوں غیر ملکی فریقوں نے جی ایم سی سے مقدمے کی سماعت کرانے پر اتفاق کیا اور تنازع کے بنیادی معاملات کے حل کے لئے چینی قانون کو قابل اطلاق قانون کے طور پر منتخب کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ جی ایم سی نے اکتوبر 2025 سے جولائی 2026 کے دوران مقدمے کی سماعت سے قبل چار اجلاس منعقد کئے اور 14 جولائی 2026 کو عوامی سماعت کی۔ عدالت نے تصادم سے متعلق حقائق کا تعین کرنے میں مدد کے لئے بحری امور کے تکنیکی تفتیش کاروں کو بھی شامل کیا، کیونکہ کسی سرکاری ادارے نے حادثے کی تحقیقات نہیں کی تھیں اور اس حوالے سے کوئی سرکاری نتیجہ بھی دستیاب نہیں تھا۔
مقدمے کی سماعت کرنے والے جج وو گوئی ننگ نے بتایا کہ مقدمے کے حقائق معلوم کرنے کے عمل کے دوران عدالت نے تصادم کے واقعات کی ترتیب ازسرنو مرتب کی، جس سے دونوں فریقوں کی متعلقہ ذمہ داریوں کا واضح تعین کرنے میں مدد ملی۔
عدالت کی ثالثی کے ذریعے متعلقہ فریقوں نے تصفیے پر اتفاق کر لیا، جس کے بعد عدالت نے جولائی کے آخر میں ذمہ داری سے متعلق فنڈ کی تقسیم کا انتظام کیا۔
’’ایڈالین‘‘ جہاز کے مالک کے نمائندے بلیوف ویاچسلوف نے کہا کہ کمپنی نے تنازع چینی عدالت کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ ملک کے قانونی اور عدالتی نظام کی غیر جانب داری اور منصفانہ ہونے پر اعتماد کی وجہ سے کیا تھا اور بالآخر یہ فیصلہ درست ثابت ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ چینی عدالت کی کارکردگی اور چینی بحری امور کے ماہرین کی پیشہ ورانہ مہارت سے متاثر ہوئے۔


