اقوام متحدہ (شِنہوا) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں اتوار کو پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے "گھناؤنے اور بزدلانہ” خودکش دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے حملے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ، پاکستان کی حکومت اور عوام سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے ان قابل مذمت اقدامات کے مرتکب عناصر، منصوبہ سازوں، مالی معاونت کرنے والوں اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں انصاف کے تقاضوں کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کی حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
سلامتی کونسل نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک دہشت گردی سے پیدا ہونے والے خطرات کا ہر ممکن ذریعے سے مقابلہ کریں۔
اتوار کے حملے میں ایک خودکش بمبار نے پولیس سٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم مرکزی دروازے پر تعینات ایک پولیس اہلکار نے اسے روک لیا، جس پر حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس وقت پولیس سٹیشن کے قریب ایک امن ریلی جاری تھی۔
مقامی حکام نے بتایا کہ مزید زخمیوں کے زخموں کی تاب نہ لانے کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے۔


