جوہانسبرگ (شِہنوا) جنوبی افریقہ کے توانائی کے ماہرین نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ چین کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی شراکت داری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف قابلِ تجدید توانائی کی ترقی تیز کر سکتا ہے بلکہ بجلی کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط بنا سکتا اور مقامی پیداواری صلاحیت کو بھی وسعت دے سکتا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنوبی افریقہ کے بجلی اور توانائی کے وزیر کوسیئنچو راموکوپا نے پیر سے منگل تک بیجنگ میں منعقدہ ’جنوبی افریقہ-چین الیکٹرسٹی اینڈ انرجی انویسٹمنٹ کانفرنس‘ میں شرکت کی اور ملک کے طویل المدتی بجلی کی توسیع کے منصوبے آگے بڑھانے کے لیے مضبوط اور حکمتِ عملی پر مبنی شراکت داری کی درخواست کی۔
جنوبی افریقن نیشنل انرجی ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ میں انرجی سیکرٹریٹ کے سربراہ سیمپسن ممفویلی نے شِہنوا کو بتایا کہ چین، جنوبی افریقہ کی توانائی کی منتقلی میں ایک اہم اور تذویراتی شراکت دار ہے۔
ممفویلی نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی میں چین کے ساتھ شراکت داری سے جنوبی افریقہ کو اپنے معدنی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے مقامی سطح پر پیداواری صلاحیتیں بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے جبکہ اس سے صنعت کاری کو فروغ، ٹیکنالوجیز کی مقامی بنیادوں پر منتقلی اور مہارتوں کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بجلی کی ترسیل کے ناکافی بنیادی ڈھانچے کو جنوبی افریقہ کی توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک قرار دیا اور نشاندہی کی کہ محدود گرڈ صلاحیت کی وجہ سے ایسٹرن کیپ اور ویسٹرن کیپ کے صوبوں میں پیدا ہونے والی قابلِ تجدید توانائی گاؤٹینگ جیسے بڑے طلب کے مراکز تک موثر انداز میں منتقل کرنے میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔


