بیجنگ (شِنہوا) چین کے سیکیورٹیز ریگولیٹر نے اعلان کیا ہے کہ چینی مین لینڈ اور ہانگ کانگ کے درمیان دو طرفہ عملی تعاون مزید مستحکم کرنے اور ہانگ کانگ کی سرمایہ کی منڈی کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے مزید پالیسی اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔
چائنہ سیکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن (سی ایس آر سی) کے چیئرمین وو چھنگ نے ان خیالات کا اظہار ہانگ کانگ میں آر ایم بی ٹریژری بانڈ فیوچرز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 3 اگست سے ہانگ کانگ میں آف شور آر ایم بی ٹریژری بانڈ فیوچرز کی پیشکش کی جا رہی ہے جو ایک آف شور آر ایم بی بزنس ہب کے طور پر ہانگ کانگ کی ترقی میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ پیر کو پانچ سالہ بانڈ فیوچرز کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
وو چھنگ کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو شرح سود کے خطرات سے نمٹنے کے لئے آسان اور موثر ٹولز فراہم کرے گا جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو چین کے بانڈ اثاثے زیادہ اعتماد کے ساتھ رکھنے میں مدد ملے گی۔ چینی مین لینڈ اور ہانگ کانگ کے درمیان سپاٹ، فیوچرز اور ڈیریویٹوز کی منڈیوں کے روابط مزید مضبوط ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طویل المدتی بنیادوں پر یہ پروڈکٹ متعارف کرانے سے آف شور آر ایم بی کا استعمال بڑھے گا اور عالمی سطح پر ہانگ کانگ کی بطور آف شور آر ایم بی بزنس ہب کی حیثیت کو تقویت ملے گی۔
ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے کے وزیر مالیات پال چھن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آف شور آر ایم بی ٹریژری بانڈ فیوچرز کا آغاز نہ صرف ہانگ کانگ کی مارکیٹ میں دستیاب آر ایم بی کے خطرات سے نمٹنے کے ٹولز کو وسعت دیتا ہے بلکہ یہ آف شور مارکیٹس میں آر ایم بی ٹریژری بانڈز کی پختگی اور آر ایم بی کی تدریجی بین الاقوامی کاری کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔


