ہانگ ژو (شِنہوا) چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے پیر کے روز اپنا جدید ترین لارج لینگویج ماڈل چھوین 3.8-میکس متعارف کرا دیا، جو اس کی چھون سیریز میں ایک اہم اپ گریڈ ہے۔ یہ ماڈل کوڈنگ، عملی کاموں اور تحقیق میں جدید صلاحیتوں کا حامل ہے۔
کمپنی نے بتایاکہ اس ماڈل میں 24 کھرب پیرامیٹرز موجود ہیں اور یہ 10 لاکھ ٹوکنز تک کی کانٹیکسٹ ونڈو کو سپورٹ کرتا ہے۔
تھرڈ-پارٹی جائزہ پلیٹ فارم ارینا کے مطابق چھوین ماڈلز دنیا کے اعلیٰ درجے کے لارج لینگویج ماڈلز میں شمار ہوتے ہیں۔
علی بابا کے مطابق چھوین 3.8-میکس خودکار کوڈنگ اور طویل المدتی عملدرآمد کی اعلیٰ صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث یہ انسانی مداخلت کے بغیر طویل عرصے تک خودمختار انداز میں کام کر سکتا ہے۔ جب اس ماڈل کو ابتدا سے ایک خود ارتقا پذیر ایجنٹ فریم ورک تیار کرنے کا کام سونپا گیا تو اس نے ایک ایسا انجینیئرنگ نظام تشکیل دیا جس میں صارفین کی آراء، ڈویلپر کمیونٹی کے بہترین طریقہ کار اور اپنے ٹیسٹ ڈیٹا کو یکجا کیا گیا۔
کوڈ تیار کرنے، اس کی جانچ، پری ویو اور لاگ تجزیے کے مسلسل عمل کے ذریعے اس نے "اوہ-مائی-سی ایل آئی” نامی ایک خود ارتقا پذیر ایجنٹ فریم ورک تیار کیا، جسے مکمل طور پر گٹ ہب پر اوپن سورس کر دیا گیا ہے۔
حالیہ عرصے میں چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈلز کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہیں۔ جولائی میں اے آئی سٹارٹ اپ مون شاٹ اے آئی نے کیمی کے 3ماڈل متعارف کرایا، جس میں 28 کھرب پیرامیٹرز موجود ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ دنیا کا سب سے زیادہ پیرامیٹرز رکھنے والا اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا ماڈل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی اوپن سورس لارج لینگویج ماڈلز اب انفرادی کامیابیوں سے آگے بڑھ کر اجتماعی پیش رفت کی جانب گامزن ہیں، جو مصنوعی ذہانت کی عالمی ترقی کے لئے نئے امکانات اور نئے طریقہ کار فراہم کر رہے ہیں۔


