ہومتازہ ترینچین کی نام نہاد "جبری مشقت کی روک تھام" کے نام پر...

چین کی نام نہاد "جبری مشقت کی روک تھام” کے نام پر چینی کمپنیوں کے خلاف امریکی اقدامات کی مخالفت

بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تجارت نے ہفتے کے روز امریکہ کی جانب سے 40 سے زائد چینی اداروں کو نام نہاد ” ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون کے تحت ممنوعہ اداروں کی فہرست” میں شامل کرنے کے حالیہ فیصلے کی شدید مذمت اور سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

وزارت کے ترجمان نے کہا کہ امریکی اقدام حقائق سے عاری ہے اور امریکہ نام نہاد "انسانی حقوق” اور "جبری مشقت” کو جواز بنا کر اپنے داخلی قوانین کے تحت چینی کمپنیوں پر یکطرفہ پابندیاں عائد کر رہا ہے جو معاشی دباؤ کی ایک واضح مثال ہے۔

ترجمان کے مطابق امریکی اقدامات نے متعلقہ چینی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ عالمی صنعتی اور ترسیلی سلسلے کے استحکام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 30 جولائی کو چین اور امریکہ کے اقتصادی و تجارتی امور کے سربراہان کے درمیان ویڈیو رابطہ ہوا تھا جس میں دونوں فریقوں نے دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کے استحکام کو برقرار رکھنے کے حوالے سے کھل کرتفصیلی اور تعمیری تبادلۂ خیال کیا تھا۔

تاہم صرف ایک دن بعد ہی امریکہ نے چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے بدنیتی پر مبنی اقدامات متعارف کرا دیئے جو دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے سے سنگین انحراف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ چین ہمیشہ سے جبری مشقت کی مخالفت کرتا آیا ہے جبکہ اس وقت سنکیانگ میں سماجی استحکام، اقتصادی خوشحالی اور عوام کے لئے پرامن زندگی موجود ہے اور وہاں کسی بھی شکل میں نام نہاد "جبری مشقت” کا کوئی وجود نہیں۔

انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر سنکیانگ کے خلاف الزامات اور منفی پروپیگنڈا بند کرے، نام نہاد "جبری مشقت” کے مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا ترک کرے اور چینی کمپنیوں کو بلاجواز نشانہ بنانا بند کرے۔

ترجمان نے کہا کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کرے گا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں