بیجنگ (شِنہوا) چین کے اعلیٰ اقتصادی منصوبہ ساز ادارے کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ 15ویں 5سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران ملک کے کمپیوٹنگ پاور نیٹ ورکس میں 40 کھرب یوآن (تقریباً 589.2 ارب امریکی ڈالر)کی نئی براہ راست سرمایہ کاری متوقع ہے۔
قومی ترقی و اصلاحات کمیشن (این ڈی آر سی) کے ترجمان جیانگ یی نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چونکہ کمپیوٹنگ پاور کی ترقی کا انحصار بنیادی طور پر کاروباری اداروں کی سرمایہ کاری پر ہے اس لئے اس شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے لئے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ چین اندرونی طلب کو وسعت دینے اور اقتصادی ترقی کو مستحکم کرنے کے لئے "6 نیٹ ورکس” کے اقدام کے تحت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری پر غور کر رہا ہے۔
ان 6 نیٹ ورکس میں آبی نیٹ ورک، نئی طرز کے بجلی کے گرڈ، کمپیوٹنگ پاور نیٹ ورکس، جدید مواصلاتی نیٹ ورکس، شہری زیر زمین پائپ لائن نیٹ ورکس اور لاجسٹکس نیٹ ورکس شامل ہیں۔
جیانگ نے کہا کہ یہ 6 نیٹ ورکس الگ الگ نظام نہیں بلکہ ایک مربوط ڈھانچہ ہیں، جن کی بنیاد گہری باہمی ربط، ایک دوسرے کو تقویت دینے اور باہمی تعاون پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 15ویں 5 سالہ منصوبے کے دوران شہری علاقوں میں گیس، پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور حرارتی نظام کے بنیادی ڈھانچے کی خامیوں کو دور کرنے، شہری انفراسٹرکچر کی لچک بڑھانے اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے زیر زمین پائپ لائن نیٹ ورکس میں تقریباً 50 کھرب یوآن کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
جیانگ کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران آبی نیٹ ورک کی تعمیر نے 10.8 ارب یوآن سے زائد نجی سرمایہ کاری حاصل کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 85.8 فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی کمپنیوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کے لئے مستقبل میں مزید ایسے منصوبے شروع کئے جائیں گے جن سے مستحکم آپریٹنگ منافع حاصل ہو سکے۔
جیانگ نے کہا کہ 6 نیٹ ورکس کی تعمیر کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور اس شعبے میں حکومتی پالیسیوں کے فوائد مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔


