کشمیر (لارڈ میڈیا): آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کے بعد مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ میرپور ڈویژن میں مکمل شٹر ڈاؤن ہے اور موبائل سروس بھی متاثر ہے۔
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ممبر اسمبلی نثارہ عباسی نے ناقص ٹیلی کام سروس پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا، جبکہ خواجہ فاروق احمد نے طلبہ اور آن لائن کام کرنے والوں کی مشکلات کا ذکر کیا۔
آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ریاض مغل نے کہا ہے کہ مظاہرین جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین سفید جھنڈے اٹھا کر غیر مسلح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی پر زور دیا ہے۔ برطانوی ارکان پارلیمنٹ ناز شاہ اور عمران حسین نے بھی مسائل کے پرامن حل کے لیے اپیل کی ہے۔
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود اچکزئی اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے کشیدگی کو کم کرنے اور سیاسی طریقوں سے مسئلے کے حل کی بات کی ہے۔ 27 جولائی کو لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا تھا جو تصادم کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔


