بشکیک (شِنہوا) شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میڈیا اور تھنک ٹینک سربراہ اجلاس 2026 اتوار سے جمعرات تک کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہو رہا ہے جس کا اہتمام شِنہوا نیوز ایجنسی اور کرغزستان کی کبار نیشنل نیوز ایجنسی نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔
اس سربراہ اجلاس میں تقریباً 260 نمائندے شریک ہیں، جن کا تعلق تقریباً 150 مرکزی ذرائع ابلاغ، معروف تھنک ٹینکس، سرکاری اداروں، ایس سی او سیکرٹریٹ اور دیگر اداروں سے ہے۔
افتتاحی تقریب اور مکمل اجلاس میں شرکاء نے "نئے دور میں شنگھائی جذبہ: مشترکہ اقدار سے عملی تعاون تک” کے موضوع پر مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور ایس سی او کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں۔
چینی صدر شی جن پھنگ نے ستمبر 2025 میں منعقدہ ایس سی او تیانجن سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "24 سال قبل اپنے قیام کے وقت ہی شنگھائی تعاون تنظیم نے شنگھائی جذبے کو اپنایا، جس کی بنیاد باہمی اعتماد، باہمی فائدہ، مساوات، مشاورت، تہذیبی تنوع کے احترام اور مشترکہ ترقی کے حصول پر ہے۔ رکن ممالک نے اسی جذبے کے تحت مواقع کا اشتراک کیا، مشترکہ ترقی کو فروغ دیا اور ایس سی او کی ترقی و تعاون میں تاریخی اور انقلابی کامیابیاں حاصل کیں۔”
رواں سال ایس سی او کے قیام کی 25ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے اور شنگھائی جذبے نے ہمیشہ تنظیم کی مستقل اور مستحکم پیش رفت کی رہنمائی کی ہے۔
ایران کے مہر میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد مہدی رحمتی نے کہا کہ شنگھائی جذبہ ایس سی او رکن ممالک کے درمیان مشترکہ فہم کی بنیاد فراہم کرتی ہے اور یہی مشترکہ فہم ترقی کو آگے بڑھانے اور رکن ممالک کی صلاحیت سازی کو درست سمت میں رہنمائی دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ایس سی او سیکرٹریٹ کے سینئر ماہر قادربیک سربائیف نے کہا کہ شنگھائی جذبہ پر عمل کرتے ہوئے ایس سی او یوریشیا میں ایک اہم قوت بن چکی ہے، جبکہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس کی آواز اور اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
تاجکستان کی خوار نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹر صبیح الدین شمس الدین زادہ نے کہا کہ آج ایس سی او کثیرالجہتی تعاون کا ایک نمایاں نمونہ بن چکی ہے، جہاں مختلف ثقافتوں، تاریخوں، اقتصادی صلاحیتوں اور ترقیاتی راستوں کے حامل ممالک باہمی احترام کی بنیاد پر یکجا ہوئے ہیں۔
گزشتہ 25 برسوں کے دوران ایس سی او کے رکن ممالک نے مختلف شعبوں میں فعال تبادلوں اور تعاون کو فروغ دیا، جس سے تنظیم کی بھرپور فعالیت اور توانائی کا اظہار ہوتا ہے۔
بیلاروس کی بیلاروسین ٹیلی گراف ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل آندرے موخار نے کہا کہ عالمی منظرنامے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے دوران ذرائع ابلاغ بین الاقوامی رائے عامہ کو معروضی اور منصفانہ انداز میں تشکیل دینے میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایس سی او ممالک کے درمیان میڈیا تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے ثقافتی تبادلوں کے معیار اور اثر انگیزی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
کرغزستان کے سنٹر فار ایکسپرٹ انیشی ایٹوز "اوئی اوردو” کے ڈائریکٹر ایگور شیستاکوف نے کہا کہ ایس سی او کی سافٹ پاور میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے، تاہم یہ امر مزید تحقیق کا متقاضی ہے کہ رکن ممالک کی علمی و فکری صلاحیت کو حقیقی مشترکہ منصوبوں میں کیسے تبدیل کیا جائے۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے نائب ڈائریکٹر جنرل مارات ابوالخاتین نے بتایا کہ حال ہی میں تاس اور شِنہوا نے روس میں مشترکہ انٹرویوز کے پہلے مرحلے کا انعقاد کیا، جبکہ دوسرا مرحلہ جلد چین میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گہرے تبادلہ خیال، مشترکہ کام اور ایک دوسرے کی حقیقی زندگی کو سمجھنے سے مضبوط تعلقات قائم ہوتے ہیں اور یہی تعلقات شنگھائی جذبے کی اصل بنیاد ہیں۔
ازبکستان کی اکیڈمی آف سائنسز کے تحت مرکز برائے معاصر تاریخ کے سربراہ مرزوخید راخیموف نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک تعلیم، ثقافت اور انسانی وسائل کی ترقی کے منصوبوں میں اپنی شراکت داری کو مزید گہرا کر رہے ہیں، جس سے عوام کے درمیان روابط اور تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔
انڈیا-چائنہ اکنامک اینڈ کلچرل کونسل کے سیکرٹری جنرل محمد ثاقب نے کہا کہ نئے دور میں شنگھائی جذبے کی اہمیت صرف مشترکہ اقدار کو فروغ دینے تک محدود نہیں بلکہ یہ مشترکہ نظاموں کی تشکیل کو بھی آگے بڑھاتی ہے اور جامع طرز حکمرانی کے لئے ایک عملی لائحہ عمل فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میڈیا اور تھنک ٹینک سربراہ اجلاس کا موضوع محض ایک عنوان نہیں بلکہ ایک عملی دعوت ہے جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ تعاون کے اعلانات کو حقیقی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔


