تاشقند (شِنہوا) ازبک ماہر نے کہا ہے کہ چین نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی ترقی اور اس کے رکن ممالک کے درمیان باہمی سیاسی اعتماد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ شنگھائی جذبہ رکن ممالک کے اتحاد کے لئے بنیادی رہنما اصول کے طور پر کام کر رہا ہے۔
تاشقند میں قائم ایس سی او پبلک ڈپلومیسی سنٹر کے ڈائریکٹر کابل جان صابروف نے حال ہی میں شِنہوا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران ایس سی او نے تعلیم، نوجوانوں، کھیل، سیاحت اور میڈیا تعاون سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی حجم اور ثقافتی پس منظر کے لحاظ سے اختلافات موجود ہیں، تاہم شنگھائی جذبے نے ان ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی روابط پائیدار امن اور مشترکہ خوشحالی کے لئے ایک بنیادی شرط ہیں، جبکہ باہمی اعتماد پر مبنی عوامی سفارتکاری تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کا ایک موثر پل ہے۔
دوطرفہ تعاون کے حوالے سے صابروف نے بتایا کہ ازبکستان اور چین نے مشترکہ طور پر بچوں کی ثقافتی نمائشوں کا انعقاد کیا ہے اور ایک فلاحی طبی پروگرام کے تحت ہزاروں ازبک مریضوں کی موتیے کے مفت آپریشن بھی کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی تعاون سے تاشقند میں "ایس سی او نالج ہال” بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں رکن ممالک کی روایتی ثقافتوں پر مبنی مطبوعات بھی دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بے یقینی اور باہمی اعتماد میں کمی کے موجودہ ماحول میں مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے تصور پر عمل کرنا انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہی علاقائی ممالک کو مشترکہ چیلنجز سے مل کر نمٹنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
صابروف نے کہا کہ یہ مرکز شنگھائی جذبے کی رہنمائی میں دوستی کی کہانیاں دنیا تک پہنچانے اور ایک زیادہ محفوظ اور خوشحال دنیا کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔


