کراچی (لارڈ میڈیا): پاکستان میں پیٹرول کی قیمت بندرگاہ پر 195 روپے فی لیٹر ہوتی ہے مگر صارفین تک پہنچتے پہنچتے یہ 335 سے 350 روپے تک ہو جاتی ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ مختلف ٹیکس اور چارجز ہیں جو پیٹرول کی اصل قیمت میں شامل کیے جاتے ہیں۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے ہی کسٹم ڈیوٹی اور دیگر پورٹ چارجز کے 17 سے 18 روپے فی لیٹر شامل ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نقل و حمل اور انتظامی اخراجات کا مارجن 16.50 روپے اور فریٹ چارجز 7.16 روپے فی لیٹر شامل کیے جاتے ہیں۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن 9.50 روپے فی لیٹر ہے، جو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد اضافہ کیا گیا۔ حکومت فی لیٹر پیٹرول پر 80 روپے پیٹرولیم لیوی اور 5 روپے کلائمٹ چینج سپورٹ فنڈ وصول کرتی ہے۔
مجموعی طور پر پیٹرول پر مقامی ٹیکس اور مارجن 108.67 روپے جبکہ ڈیزل پر 96.86 روپے فی لیٹر ہیں۔ اس کا بوجھ عام شہری خاص کر موٹر سائیکل سواروں پر زیادہ پڑتا ہے جو ماہانہ 18,000 سے 20,000 روپے تک صرف ٹیکسز میں ادا کرتے ہیں۔
یہ تمام رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے جس سے حکومت اپنے اخراجات پورے کرتی ہے، لیکن ان بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے۔


