بوسان، جنوبی کوریا (شِنہوا) اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے ہفتے کے روز جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ عالمی ورثہ کمیٹی کے 48 ویں اجلاس کے دوران چین کے جنگ دے ژین میں ہاتھ سے تیار کردہ چینی مٹی کے برتنوں کی صنعت سے متعلق تاریخی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کر لیا۔
اس اندراج کے بعد چین میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات کی مجموعی تعداد 61 ہو گئی ہے۔
جنگ دے ژین کی ہاتھوں سے تیار کی جانے والی چینی مٹی کی مصنوعات کے تاریخی مقامات ان تاریخی ورثہ مقامات کا مجموعہ ہیں جو چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے شہر جنگ دے ژین میں 10ویں سے 19ویں صدی کے دوران فروغ پانے والی دستکارانہ چینی مٹی کی صنعت کے نظام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یونیسکو کے مطابق جنگ دےژین میں اعلیٰ ترین معیار کے چینی مٹی کے برتن تیار کئے جاتے تھے جبکہ یہاں کے نیلے اور سفید رنگ کے برتن اور ان کے منفرد ڈیزائن دنیا بھر میں نہایت قیمتی تجارتی مصنوعات بن گئے اور چینی ثقافت اور فنکاری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
یہ تاریخی مقام 1979 ہیکٹر رقبے پر محیط ہے جبکہ اس کے گرد 5545.7 ہیکٹر کا حفاظتی بفر زون قائم کیا گیا ہے۔ اس کے پانچ حصوں میں چینی مٹی کی مصنوعات تیار کرنے والا ٹاؤن ایریا سنٹر، قدیم بھٹی کا مقام ہوتیان، چینی مٹی کی کان گاؤلنگ، چینی پتھر کی کان کنی کا مقام چھانگ لنگ اور ایندھن کی لکڑی کی پیداوار کا علاقہ جیاؤتان شامل ہیں۔
عالمی ورثہ کمیٹی کے مطابق یہ مقام چین میں ہاتھ سے چینی مٹی کے برتن بنانے کی ٹیکنالوجی، چینی مٹی کے فن اور اس صنعت کی جدت انگیز ترقی کو ظاہر کرتا ہے جبکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت فراہم کرتا ہے کہ چین کی مٹی کی صنعت نے دنیا کی سرامک صنعت کی ترقی، تہذیبوں کے درمیان تبادلے اور باہم سیکھنے کے عمل پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
کمیٹی نے اس تاریخی مقام کے تحفظ اور انتظام کے لئے چینی حکومت کی کوششوں اور کامیابیوں کو بھی سراہا۔
چینی حکومت کی جانب سے عالمی ورثہ کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے ثقافت و سیاحت کے نائب وزیر اور قومی ثقافتی ورثہ انتظامیہ کے سربراہ راؤ چھوان نے عالمی ثقافتی ورثہ کنونشن پر مکمل عملدرآمد کے لئے چین کے عزم کا اعادہ کیا۔


