اسلام آباد (لارڈ میڈیا): وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنانے اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اجلاس میں گندم کے موجودہ ذخائر اور آئندہ ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ پاسکو کے پاس موجود گندم کے ذخائر فوری طور پر صوبوں کی ضروریات کے مطابق فراہم کیے جائیں گے تاکہ سپلائی کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔ وزارت کے مطابق صوبوں کی مجموعی ضرورت پاسکو کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے، جس کے پیش نظر درآمد کا فیصلہ لیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) اگلے 15 دنوں میں بین الاقوامی درآمدی ٹینڈر جاری کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی گندم مارکیٹ کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
پنجاب میں ترجمان محکمہ فوڈ سیفٹی نے کہا ہے کہ فلور ملز معمول کے مطابق فعال ہیں اور گندم کی پسائی کا عمل جاری ہے۔ لاہور میں 10 کلوگرام آٹے کے 7 لاکھ 86 ہزار 400 تھیلے 1100 روپے فی تھیلہ کے حساب سے مارکیٹ میں سپلائی کیے جا رہے ہیں۔
محکمہ فوڈ سیفٹی کے ترجمان نے مزید کہا کہ شہریوں کو آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور سپلائی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


