سال 2026 کے بین الاقوامی ہفتہ برائے تحفظِ ثقافتی ورثہ کے دوران چین کے قدیم طرزِ تعمیر اور شاندار ثقافتی ورثے نے بین الاقوامی مہمانوں کو بے حد متاثر کیا۔
ساؤنڈ بائٹ 1 (انگریزی): میاں ابرار حسین، پاکستانی صحافی
’’میرے خیال میں یہ میرے لئے ایک ثقافتی حیرت والی بات تھی کیونکہ جب میں یہاں آیا تو مجھے ہرگز توقع نہیں تھی کہ ہزاروں برس پرانا طرزِ تعمیر ایک ہی جگہ دیکھنے کو ملے گا۔ یہ قدیم طرزِ تعمیر تاریخ کے مختلف ادوار اور کئی سلطنتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ طرزِ تعمیر خوبصورت ہے اور اسے نہایت عمدہ انداز میں محفوظ رکھا گیا ہے۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 2 (انگریزی): کلاڈیو میہائیل فلوریان، منسٹر، سفارتخانہ رومانیہ، چین
’’چین میں اب بھی دریافت کرنے کے لئے بہت کچھ موجود ہے۔ ایک غیر ملکی کے لئے یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ وہ ایسے وقت میں یہاں موجود ہو یا اسے وقتاً فوقتاً ایسے تاریخی اور ثقافتی مقامات دیکھنے کا موقع ملے جو نہایت اچھی طرح محفوظ رکھے گئے ہوں اور جن کے بارے میں جامع معلومات بھی فراہم کی جاتی ہوں۔‘‘
ساؤنڈ بائٹ 3 (انگریزی): ایلِنکا فلوریان، رومانیہ کی طالبہ
’’میرا خیال ہے کہ جب کوئی نوجوان اس مقام پر آتا ہے تو وہ یہاں سے ایک نئی توانائی حاصل کر سکتا ہے۔ وہ یہ سیکھتا ہے کہ دوسروں نے اس تاریخی مقام کو محفوظ رکھنے کے لئے کتنی محنت اور توجہ دی ہے۔ پھر وہ اسی جذبے کو اپنی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘
اس تقریب کے دوران منعقد ہونے والے گول میز مکالموں، لیکچرز، نمائشوں اور مطالعاتی دوروں نے ثقافتی تبادلے اور ورثے کے تحفظ سے متعلق تبادلۂ خیال کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔
شرکاء نے ’جن چھے مندر‘ کے علاوہ یوچی اور پِنگ یاؤ کے قدیم شہروں کے مطالعاتی دورے بھی کئے۔ ان دوروں میں انہوں نے روایتی چینی ثقافت کا مشاہدہ کیا اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے چینی اقدامات سے آگاہی حاصل کی۔
تائی یوآن، چین سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ


