ہومتازہ ترینچین کے اندرونی منگولیا میں سبزہ زاروں کی بحالی سے زمین اور...

چین کے اندرونی منگولیا میں سبزہ زاروں کی بحالی سے زمین اور حیات دونوں کو سہارا

ہوہوت، چین (شِنہوا) بیجنگ سے 180 کلومیٹر شمال میں واقع ہون شانداکے کے ریگستان میں ہوائیں زور سے چلتی ہیں۔ دو دہائیاں قبل یہی ہوائیں چین کے شمالی علاقے میں گرد و غبار کے طوفانوں کا سبب بنتی تھیں۔ آج یہی ہوائیں سبز گھاس کی لہروں کو لہرا رہی ہیں۔ ہوا نہیں بدلی، زمین بدل گئی ہے۔

صحرا کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی سی ڈی) کے سیکرٹریٹ کے نمائندوں اور بھارت، پیرو، کینیا اور چاڈ سے تعلق رکھنے والی متعلقہ تنظیموں کے نمائندوں نے حال ہی میں چین کے اندرونی منگولیا خودمختار علاقے میں اس مقام کا دورہ کیا تاکہ ویلو کی رکاوٹوں اور مخلوط تخم کاری پر مبنی ایک تخلیقی طریقہ کار کا مطالعہ کیا جا سکے۔

یہ جدت مقامی آب و ہوا، مٹی اور ایک منفرد حیاتیاتی ماحولیاتی نظام پر مبنی ہے۔ مقامی لوگ مقامی جھاڑی ’’سالکس گورڈیجیوی‘‘ کی شاخوں کو استعمال کرتے ہوئے ریت کو روکنے والی رکاوٹیں بناتے ہیں، جو ریت کی حرکت کو موثر انداز میں سست کرتی ہیں۔ بارش کے موسم میں بوئی گئی مقامی گھاس ان خانوں میں اگتی اور پھیلتی ہے۔ جھاڑیاں اور گھاس مل کر پودوں کی ایک تہہ تشکیل دیتی ہیں، جو ریتلے علاقے کو مستحکم کرتی ہے اور نباتات کو دوبارہ بحال کرتی ہے۔

حکام نے اس طریقے کو کم لاگت اور پائیدار قرار دیا۔ جھاڑیوں کو وقفے وقفے سے کاٹ کر مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مویشیوں کے چرانے پر پانچ سالہ پابندی کے بعد بحال شدہ سبزہ زار کو محدود اور منظم استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

تاہم پودے لگانا صرف اس کہانی کا ایک نمایاں حصہ تھا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اور غیر ملکی مہمان یہ جاننے کے خواہاں تھے کہ اس کے بعد کیا ہوا۔

ان کے پاس سوالات کی ایک طویل فہرست تھی کہ منصوبے پر کتنی لاگت آتی ہے؟ کیا چرواہے اس میں حصہ لے سکتے ہیں؟ بحال شدہ زمین کی حفاظت کون کرتا ہے؟ کیا یہ پروگرام ان مشکل برسوں میں بھی پائیدار رہ سکتا ہے جب بارش کم ہو اور مقامی لوگ اب بھی مویشی پالنے کے پیشے سے وابستہ ہوں؟

یہ تمام سوالات ایک بنیادی سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس زمین پر چراگاہوں کی بحالی کو کس طرح پائیدار بنایا جائے اور اسی وقت لوگوں کے ذریعہ معاش کو بھی یقینی بنایا جائے؟

درجہ ذیل کہانی بیان کرتی ہے کہ عملی طور پر یہ توازن کس طرح قائم کیا گیا۔

ہاسی باتیر نامی چرواہے کے خاندانی فارم پر مویشیوں کی افزائش، چارے کی کاشت اور سبزہ زاروں کا تحفظ ایک مربوط نظام تشکیل دیتے ہیں، جس سے ریوڑ کی صحت بہتر ہونے کے ساتھ منافع میں بھی اضافہ ہوا، تاہم مویشیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ مقامی طور پر تیار کردہ چارے نے قدرتی چراگاہوں پر دباؤ کم کیا، جس سے ماحولیاتی اور معاشی فوائد کا ایک پائیدار چکر قائم ہوا۔

ماؤدنگ فارم پر اسی طریقہ کار کو بڑے پیمانے پر اپناتے ہوئے تباہ شدہ چراگاہوں کی بحالی کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی اختیار کی گئی، جس میں چرانے پر پابندی، دوبارہ تخم کاری، مخصوص کھاد کا استعمال، جڑوں کی کٹائی اور باری باری گھاس کاٹنے کے طریقے شامل تھے۔ ان اقدامات نے ماحولیاتی نظام کی بحالی کے ساتھ ساتھ پیداوار میں بھی اضافہ کیا۔

اس کے علاوہ فارم نے چارے کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے کا ایک جامع نظام قائم کیا، جس سے خشک سالی، برفانی طوفانوں اور دیگر شدید موسمی حالات کے دوران ایک اہم حفاظتی سہارا فراہم ہوا۔

چین کے شمالی اندرونی منگولیا خودمختار علاقے کی شی لنگول لیگ کے ژینگ لان بینر میں واقع ہون شانداکے کے ریگستان میں کارکن جھاڑیاں لگا رہے ہیں۔(شِنہوا)

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں