تہران (لارڈ میڈیا): ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سفارتی پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حالیہ دنوں میں مختلف ثالثوں نے تجاویز اور پیغامات پہنچائے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے امریکا کو حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران خطے کے ممالک سے دشمنی نہیں رکھتا، تاہم وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حملے جاری رہیں گے، ایران کی افواج بھی جواب دیں گی۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے جنوبی ایران کے خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ خارگ جزیرہ ایران کی تیل کی صنعت کا مرکزی مرکز ہے اور اس پر قبضے کی دھمکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی ہے۔
بقائی نے امریکا کے ساتھ عبوری معاہدے کے حوالہ سے کہا کہ اس کے متن میں کوئی ابہام نہیں ہے اور یہ 14 شقوں پر مشتمل ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کی ذمہ داری اس پر ہے اور یہ معاملہ عمان و دیگر خطے کے ممالک کے ساتھ مشاورت سے طے کیا جائے گا۔


