پشاور (لارڈ میڈیا) خیبرپختونخوا میں جنگلات کی کٹائی نے تشویشناک صورتحال اختیار کر لی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ماہر ماحولیات کے مطابق غیر قانونی کٹائی، قبضے اور آگ کے واقعات جنگلات پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
گلوبل فاریسٹ واچ کی رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2025 تک خیبرپختونخوا میں 4,800 ہیکٹر جنگلات ختم ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگلات کی کٹائی سے 1.9 ملین ٹن کاربن اخراج ہوا ہے۔ مانسہرہ کے علاقے بسالا میں کان کنی کے باعث جنگلات کا رقبہ 8.515 ہیکٹر سے گھٹ کر 0.131 ہیکٹر رہ گیا ہے۔
سیکریٹری جنگلات جنید خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کسی بھی مقام پر جنگلات کی کٹائی کی اجازت نہیں ہے، تاہم ذاتی رقبے سے ذاتی استعمال کے لیے لکڑی لینے کی اجازت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص اراضی پر جنگلات کی کٹائی پر سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
جنید خان کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران لکڑی کی اسمگلنگ کے خلاف 233 کارروائیاں کی گئی ہیں اور 59 گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں۔ ذاتی زمین سے لکڑی کا تجارتی استعمال یا اسمگلنگ قانوناً جرم ہے۔


