یروشلم (لارڈ میڈیا): اسرائیلی سکیورٹی اداروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے نتیجے میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات انتہائی کم رہ گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے منصوبوں کو مزید وسعت دے دی ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حالیہ فوجی کشیدگی اور دونوں ممالک کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج مسلسل آپریشنل منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور ایران کے اندر ممکنہ اہداف کی فہرست کو بھی اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے، تاکہ اگر سیاسی قیادت عسکری کارروائی کا فیصلہ کرے یا ایران کی جانب سے براہ راست حملہ ہو تو فوری ردعمل دیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی حملے کا جواب بڑے پیمانے پر دیا جائے گا اور اس حوالے سے امریکا کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔
اسرائیلی اخبار معاریف نے دعویٰ کیا کہ فوج نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر وسیع حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جن میں تیل و گیس کی تنصیبات، بجلی گھر، صنعتی مراکز اور نقل و حمل کے اہم نیٹ ورک شامل ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق خطے میں کسی بھی بڑی عسکری کارروائی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مکمل رابطہ برقرار رکھا جائے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی بڑی تعداد موجود ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اندر 300 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
ایرانی مؤقف ہے کہ وہ فوجی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور جب تک امریکی اور اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں گی، ایران بھی اپنے ردعمل کا سلسلہ جاری رکھے گا۔


