ہومتازہ ترینچین توانائی بچانے والی اور نئی توانائی گاڑیوں کے لئے وہیکل...

چین توانائی بچانے والی اور نئی توانائی گاڑیوں کے لئے وہیکل اینڈ ویسل ٹیکس مراعاتی پالیسی ختم کردے گا

بیجنگ (شِنہوا) چینی حکام نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2027 سے توانائی بچانے والی گاڑیوں کو وہیکل اینڈ ویسل ٹیکس میں دی جانے والی 50 فیصد رعایت ختم کر دی جائے گی۔

اسی طرح بعض نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای ویز)، جن میں مکمل برقی تجارتی گاڑیاں، پلگ ان ہائبرڈ برقی گاڑیاں اور فیول سیل تجارتی گاڑیاں شامل ہیں، کو بھی اس ٹیکس سے حاصل استثنیٰ ختم کر دیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس تبدیلی کے بعد مذکورہ گاڑیاں خریدنے والے یا پہلے سے رکھنے والے ٹیکس دہندگان کو آئندہ سال سے سالانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

تاہم مکمل برقی مسافر گاڑیاں اور ایندھن سے چلنے والی مسافر گاڑیاں پالیسی میں اس تبدیلی سے متاثر نہیں ہوں گی اور بدستور ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں گی کیونکہ وہیکل اینڈ ویسل ٹیکس کے قانون کے تحت یہ دونوں اقسام قابل ٹیکس دائرے میں شامل نہیں ہیں۔

وہیکل اینڈ ویسل ٹیکس ایک پراپرٹی ٹیکس ہے جو ہر سال گاڑیوں اور آبی جہازوں کے مالکان یا منتظمین پر عائد کیا جاتا ہے۔ صوبائی سطح کے علاقے ایک مقررہ حد کے اندر رہتے ہوئے اپنی علاقائی ضروریات کے مطابق قابل اطلاق ٹیکس کی شرح یا رقم مقرر کر سکتے ہیں۔

چین نے 2012 سے نئی توانائی گاڑیوں کی صنعت کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور اخراج میں کمی کے فروغ کے لئے اس ٹیکس میں ترجیحی مراعات نافذ کر رکھی تھیں۔ حالیہ برسوں میں اس شعبے نے تیز رفتار ترقی کی ہے تاہم ٹیکس میں رعایت کے باعث ٹیکس کے مساوی نظام اور اس کے ضابطہ جاتی کردار سے متعلق مسائل بھی بڑھتے گئے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس پالیسی میں تبدیلی ٹیکس کے نظام میں مساوات کو فروغ دے گی اور نئی توانائی کی گاڑیوں کی صنعت کی صحت مند ترقی میں مددگار ثابت ہوگی۔ چائنیز اکیڈمی آف فسکل سائنسز کے پبلک ریونیو ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر لیانگ جی نے کہا کہ وہیکل اینڈ ویسل ٹیکس دولت کی ازسر نو تقسیم کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی کی رہنمائی اور ضابطہ سازی کا بھی اہم ذریعہ ہے۔

صنعتی تجزیہ کاروں کے مطابق وہیکل اینڈ ویسل ٹیکس کی رقم نسبتاً کم ہے۔ مثال کے طور پر 1.5 لیٹر انجن والی ایک پلگ ان ہائبرڈ مسافر گاڑی پر بیجنگ میں سالانہ ٹیکس 420 یوآن (تقریباً 60 امریکی ڈالر) جبکہ شنگھائی اور گوانگ ڈونگ میں 300 یوآن ہے۔

چین کے آٹوموٹو سٹریٹجی اینڈ پالیسی ریسرچ سنٹر کے نائب سربراہ لیو بن نے کہا کہ یہ ٹیکس گاڑی رکھنے کے مجموعی اخراجات کا ایک چھوٹا حصہ ہے اور صرف چند مخصوص ماڈلز پر لاگو ہوتا ہے اس لئے اس کے مجموعی اثرات بہت زیادہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برسوں کی ترقی کے بعد چین کی نئی توانائی کی گاڑیوں کی صنعت اب سرکاری مراعات پر انحصار سے آگے بڑھ کر منڈی پر مبنی اور خودمختار ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پالیسی میں تبدیلی کمپنیوں کو مسابقت کے ذریعے بہتر اور اعلیٰ معیار کی ترقی حاصل کرنے کی ترغیب دے گی۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں