جنیوا (شِنہوا) چین نے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے متعلق ایک اجلاس کے دوران تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو رسائی کے فروغ کے لئے استعمال کریں اور تمام انسانی حقوق کے مکمل استعمال کے لئے کونسل کی رسائی سے متعلق قرارداد پر مکمل عملدرآمد کریں۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور سوئٹزرلینڈ میں دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں چین کے مستقل نمائندے جیا گوئی دے نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں اجلاس کے دوران تکنیکی تعاون پر منعقدہ دو سالہ اجلاس میں 65 ممالک کی جانب سے مشترکہ بیان پیش کیا۔
مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ رسائی تمام افراد، بشمول معذور افراد، بزرگوں اور دیگر کمزور
حالات سے دوچار افراد کے لئے تمام انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے مکمل، مساوی اور موثر طور پر
استفادہ کرنے کی خاطر نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
دستاویز میں چار تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
پہلی تجویز میں کہا گیا ہے کہ ترقی پر مبنی نقطہ نظر پر قائم رکھا جائے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے رسائی کو فروغ دے کر اعلیٰ معیار کی ترقی میں نئی روح پھونکی جائے۔
دوسری تجویز ہے کہ مصنوعی ذہانت کو بھلائی اور سب کے لئے فروغ دیں۔ رسائی کو فروغ دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کا محور عوام ہونا چاہیے تاکہ تمام لوگ مل کر سماجی ترقی کے ثمرات سے استفادہ کر سکیں۔
تیسری تجویز میں کہا گیا ہے کہ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رویے برقرار رکھیں تاکہ متنوع گروہوں اور تمام ممالک کے لئے یکساں رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
چوتھی تجویز دی گئی ہے کہ عالمی فوائد اور شمولیت کی وکالت کی جائے، ڈیجیٹل تفریق اور ترقیاتی عدم توازن ختم کریں اور مصنوعی ذہانت کے تناظر میں سب کے لئے رسائی کے بہترین طریقوں کے تبادلے کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر فروغ دیں۔
مشترکہ بیان کو وسیع حمایت حاصل ہوئی، روس، انڈونیشیا، پاکستان، وینزویلا، سوڈان، کمبوڈیا اور دیگر ممالک نے اس بیان کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ کئی ترقی پذیر ممالک نے اپنے قومی بیانات میں اس موقف کی تائید کی۔


