واشنگٹن (لارڈ میڈیا): امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جس کا آغاز 26 فروری 2026 کو افغان فورسز کے سرحد پار حملوں سے ہوا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بیان میں کہا کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت مصائب جھیلے ہیں۔ پاکستان واشنگٹن کا ایک اہم غیر نیٹو اتحادی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر شواہد پیش کیے ہیں کہ افغانستان بھارتی ایما پر عسکریت پسندوں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے ذمہ دار ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ متعدد بار رابطے کیے مگر سرزمین کے استعمال کی ضمانت حاصل نہیں کر سکا۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسند افغان سرحد عبور کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔


