ہومتازہ ترینجاپانی محققین نے جنگ کے دوران لُوٹے گئے چینی نوادرات کی واپسی...

جاپانی محققین نے جنگ کے دوران لُوٹے گئے چینی نوادرات کی واپسی کا مطالبہ کر دیا

جاپان کے محققین اور سماجی کارکنوں کے ایک گروپ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی جارحیت کی تاریخ کا سامنا کرے اور جنگ کے دوران جاپان لے جائے گئے چینی ثقافتی نوادرات چین کو واپس کرے۔

یہ اپیل ہفتے کے روز ٹوکیو میں ہونے والے ایک سمپوزیم کے دوران کی گئی جس کا انعقاد ایسوسی ایشن فار پروموٹنگ دی ریٹرن آف چائنیزکلچرل ریلکس نے کیا تھا۔ یہ ایک شہری تنظیم ہے جو چینی نوادرات کی واپسی اور چین اور جاپان کے درمیان تاریخی مفاہمت کے فروغ کے لئےسرگرم ہے۔

تنظیم کے ارکان نے اس موقع پر نشاندہی کی کہ جنگ کے دوران بڑی تعداد میں لائے گئے ثقافتی نوادرات آج بھی جاپان میں موجود ہیں۔ اگرچہ جاپانی حکومت کا ایک لمبے عرصے سے یہی مؤقف ہے کہ ان میں سے کئی نوادرات کی اصل حیثیت واضح نہیں تاہم تنظیم کے ارکان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ متعدد اشیا چینی فنّی خصوصیات کی واضح جھلک پیش کرتی ہیں۔ دوسری طرف یہ سوال بھی برقرار ہے کہ آیا یہ نوادرات قانونی ذرائع سے جاپان میں لائی گئیں یا نہیں، خاص طور پر جاپان کی جنگوں اور بیرونی جارحیت کے تناظر میں۔

تنظیم نے کہا ہے کہ وہ اب جاپانی حکومت پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ کے دوران چین سے لے جائے گئے تانگ خاندان کے دور کے ہونگلوجنگ کتبہ سمیت متعدد نوادرات واپس کرے۔

ٹوکیو ایسوسی ایشن آف ہسٹری ایجوکیٹرز کے وائس چیئرمین تسوگو توکیرین نے شِنہوا کو بتایا کہ یورپی ممالک کی ایک بڑی تعداد نے حالیہ برسوں میں نوآبادیاتی دور اور جارحیت پر مبنی اپنی تاریخ کا جائزہ لینے کی کوششوں کے تحت ثقافتی نوادرات کی واپسی کے عمل کو آگے بڑھایا ہے جبکہ جاپان میں اس حوالے سے کوئی مؤثر آگاہی پیدانہیں کی جاسکی۔

ساؤنڈ بائٹ 1 (جاپانی): تسوگو توکیرین، وائس چیئرمین، ٹوکیو ایسوسی ایشن آف ہسٹری ایجوکیٹرز

’’جاپان کو چاہئے کہ وہ اپنی تاریخ کا دیانتداری سےسامنا کرے، ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرے اور ان غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ثقافتی نوادرات کی واپسی کو فروغ دے۔‘‘

تنظیم کے شریک نمائندے اکیرا ایگراشی نے کہا کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ نوادرات میں سے کسی خاص چیز کو واپس واپس کیا جانا چاہئے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جاپان اپنی جدید تاریخ کا ازسرِنو جائزہ لینے کے لئے تیار بھی ہے یا نہیں۔

ساؤنڈ بائٹ 2 (جاپانی): اکیرا ایگراشی، شریک نمائندہ، ایسوسی ایشن فار پروموٹنگ دی ریٹرن آف چائنیزکلچرل ریلکس

’’ایک لحاظ سے یہ نوادرات ماضی کی تلخ یادوں کی یاد دہانی ہیں۔ انہیں اپنے پاس رکھنے میں جاپان کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جاپانی معاشرہ کیسے اس حقیقت کا گہرا ادراک کرتا ہے۔”

ہونگلوجنگ کتبہ تانگ خاندان کے دور میں 714 عیسوی میں نصب کیا گیا تھا۔ اسے ایک اہم تاریخی ثبوت سمجھا جاتا ہے جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ تانگ خاندان کی مرکزی حکومت نے موہے نسلی برادری کے رہنماؤں کی باضابطہ تعیناتی کے ذریعے چین کے شمال مشرقی علاقے پر اپنا اقتدار مستحکم کیا۔

اپریل 1908 کے اختتام سے قبل لیوشن میں جاپانی فوجی انتظامیہ نے اس کتبے کو سال 1896 کے تعمیر کردہ حفاظتی پویلین سمیت منہدم کرکے جاپان بھیج دیا تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے چین اور جاپان کے فکرمند شہری اور محققین اس کتبے کی واپسی کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں تاہم جاپانی حکومت نے اب تک ان کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔

ٹوکیو سے شِنہوا نیوز ایجنسی کے نمائندوں کی رپورٹ

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں