تہران (شِنہوا) ایک اعلیٰ ایرانی سفارت کار نے کہا ہے کہ ایران کا امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کا نشانہ بننے والی اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اس حوالے سے معاملات صرف واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ حتمی معاہدے کے لائحہ عمل کے اندر ہی طے کئے جائیں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات اور مواد تک رسائی کے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا اور اسے صرف حتمی معاہدے کے دائرۂ کار میں ہی حل کیا جائے گا اور یہ دوسرے فریق کی جانب سے تمام پابندیوں کے عملی خاتمے کے اقدامات کے نتیجے میں ممکن ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں سوئٹزرلینڈ میں ایران کے مذاکراتی وفد اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی حالانکہ گروسی نے ایسی ملاقات کی درخواست کی تھی۔
غریب آبادی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گروسی نے اسی روز کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی امن مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے پیش نظر آئی اے ای اے ایران میں معائنے کرے گی۔
18 جون کو دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے سے متعلق حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لئے مذاکرات کا 60 روزہ وقت مقرر کیا گیا ہے جو پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ مذاکرات کا پہلا دور اتوار اور پیر کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوا۔
ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان جون 2025 میں ہونے والی "12روزہ جنگ” کے دوران امریکہ کی جانب سے بمباری کا نشانہ بنی تھیں۔ رواں سال 28 فروری کو شروع ہونے والے تنازع میں بھی یہ تنصیبات دوبارہ مرکز توجہ بنی رہیں، اس دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری اور فوجی اہداف پر حملے کئے۔


