ہومانٹرنیشنلجنوبی کوریا کے سابق صدر یون کو ریاست سے غداری کے مقدمے...

جنوبی کوریا کے سابق صدر یون کو ریاست سے غداری کے مقدمے میں 30 سال قید کی سزا

سیئول (شِنہوا) جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سوک یول کو عوامی جمہوریہ کوریا (ڈی پی آر کے) میں ڈرونز کے ذریعے دراندازی سے متعلق ریاستی غداری کے مقدمے میں 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سیئول سنٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے یون کو غداری کے الزام میں قید کی سزا سنائی، جس میں اس جرم سے مراد جنوبی کوریا کے فوجی مفادات کو نقصان پہنچانا یا دشمن کو فائدہ پہنچانا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ڈرون دراندازی سے جنوبی کوریا کے فوجی مفادات کو نقصان پہنچا اور یہ کارروائیاں قومی سلامتی یا دفاع سے غیر متعلق نجی مقاصد کے لئے کی گئیں۔

یون کے بغاوت اور دیگر الزامات کی تحقیقات کرنے والے آزاد وکیل چو اون-سوک کی ٹیم نے بھی ان کے لئے 30 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

یون پر الزام تھا کہ انہوں نے اکتوبر 2024 کے آس پاس پیانگ یانگ میں ڈرون دراندازی کا حکم دیا، جس کا مقصد ڈی پی آر کے کو فوجی طور پر اشتعال دلانا تھا تاکہ اس ہی سال دسمبر میں مارشل لا کے اعلان کے لئے جواز پیدا کیا جا سکے۔

سابق وزیر دفاع کم یونگ ہیون کو 30 سال قید کی سزا سنائی گئی، جو خصوصی وکیل کی جانب سے مانگی گئی 25 سال کی سزا سے زیادہ ہے جبکہ سابق ڈیفنس کاؤنٹر انٹیلی جنس کمانڈر یو ان ہائیونگ کو 15 سال قید کی سزا دی گئی۔

یون، کم اور یو پر نومبر 2025 میں غداری کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔

یون کو فروری میں مارشل لا کے اعلان سے متعلق بغاوت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔

3 دسمبر 2024 کی رات یون نے ہنگامی مارشل لا نافذ کیا تھا، تاہم اسے چند گھنٹوں بعد قومی اسمبلی نے واپس لے لیا تھا۔

جنوری 2025 میں انہیں حراست میں لے کر بغاوت کے مرکزی ملزم کے طور پر فرد جرم عائد کی گئی تھی اور وہ پہلے ایسے موجودہ صدر بنے جنہیں گرفتار کیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا۔

Author

متعلقہ تحاریر
- Advertisment -
Google search engine

متعلقہ خبریں