پرسات (شِنہوا) کمبوڈیا کے مغربی صوبے پرسات میں ایک چینی کمپنی کے تعمیر کردہ ملک کے سب سے اونچے پل سے سٹونگ روسئی چرم دریا کی وادی میں تجارت اور سفر کی راہیں کھلنےپر علاقے میں بھرپور خوشی اور تحسین کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
چائنہ روڈ اینڈ برج کارپوریشن کا تعمیر کردہ یہ 80 میٹر اونچا ’’ٹیچو سانتیپ ہیپ روسئی چرم پل‘‘ گزشتہ سال مئی میں کھولا گیا تھا جو دور دراز کھیتوں کو براہ راست منڈیوں سے جوڑ کر مقامی تجارت کو نئی جہت دے رہا ہے۔
سرسبز و شاداب جنگلات کے شاندار اور دلکش مناظر سے گھرا ہوا یہ 530 میٹر لمبا اور 10 میٹر چوڑا پل مسافروں اور سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے جو یہاں کی خوبصورتی کا نظارہ کرنے، تصویریں کھینچنے اور تازہ ہوا سے لطف اندوز ہونے کے لئے رکتے ہیں۔
ضلع ویل ونج کی اوسوم کمیون میں قومی شاہراہ 10 پر بنا یہ بلند ترین پل ایک قومی قدرتی تحفظ گاہ اور پانی کے محفوظ ذخیرے کے بالکل ساتھ واقع ہے۔
پل کے قریب سڑک کنارے 60 سالہ خاتون دکاندار کوئے پھالی نے بتایا کہ اس پل نے مقامی لوگوں کے روزگار بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس کی بدولت کسان اب اپنی زرعی پیداوار آسانی سے منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
کوئے پھالی نے شِنہوا کو بتایا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ اس خوب صورت سڑک اور پل کے قریب رہتی ہوں، یہاں کے شاندار مناظر نے صوبے میں سیاحوں کو راغب کیا اور مقامی اشیاء کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
کوئے پھالی پل کی تعمیر پر چینی کمپنی کی شکر گزار ہے، اس کا کہنا تھا اس پل کی بلندی دیکھنے کے خواہش مند بہت سے سیاح ہفتہ وار چھٹی پر یہاں آتے ہیں۔
قریب ہی ایک اور 78 سالہ دکاندار سم سام اوول نے کہا کہ اس پل نے اس دور دراز برادری کی دہائیوں پرانی تنہائی ختم کر دی اور ایک خطرناک سفر چند منٹوں کی آسان مسافت میں بدل دیا ہے۔
وزارت تعمیرات عامہ و نقل و حمل کے ترجمان پھان رم نے کہا کہ یہ پل بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت کمبوڈیا اور چین کے درمیان قریبی تعاون کا عکاس ہے۔
انہوں نے شِنہوا کو بتایا کہ اس پل سے بے شمار معاشی فوائد حاصل ہوئے ہیں، سفر کا وقت اور نقل و حمل کے اخراجات کم ہونے کے ساتھ ساتھ موثر آمدورفت کی سہولت بھی میسر ہوئی ہے۔


